سپریم کورٹ نے سول مقدمات میں مسلسل تاخیر اور بار بار ملتوی کیے جانے کے رجحان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بروقت انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور غیر ضروری تاخیر عدالتی نظام کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔

نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے منگل کے روز سول مقدمات میں مسلسل تاخیر اور بار بار ملتوی کیے جانے کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ رویے نہ صرف مقدمات کے بوجھ میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ عدلیہ کی کارکردگی اور ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

جسٹس شکیل احمد نے لاہور ہائی کورٹ کے 21 مئی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ سول تنازعات کا بروقت حل صرف فریقین کا قانونی حق نہیں بلکہ ایک مؤثر عدالتی عمل کی لازمی خصوصیت بھی ہے۔

انہوں نے اپنے 11 صفحات کے فیصلے میں کہا کہ تحقیق کے مطابق مقدمات کو بار بار اور بلاوجہ ملتوی کرنا تاخیر کی سب سے بڑی وجہ ہے، جس سے فریقین کو مالی اور ذہنی نقصان ہوتا ہے، عوام کا عدلیہ پر اعتماد کم ہوتا ہے اور بروقت انصاف کا حق متاثر ہوتا ہے۔

یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب عرفان رشید نے 25 کنال زمین 90 لاکھ روپے میں خریدی، جس میں سے 39 لاکھ روپے بطور ایڈوانس 5 جون 2018 کو ادا کیے گئے، تحریری معاہدہ طے پایا اور پراپرٹی اس حد تک مدعی کے نام منتقل کر دی گئی۔

بعد میں مدعا علیہان نے اپنی باقی ذمہ داریاں پوری کرنے سے انکار کر دیا، اس پر مدعی نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس میں عدالت نے عارضی حکم جاری کیا، اسی دوران مدعا علیہان نے معاہدہ منسوخ کرنے کے لیے الگ مقدمہ دائر کیا، جس کا فیصلہ 18 جولائی 2019 کو ان کے حق میں ہوا۔

مدعی نے سول کارروائی کے ضابطہ، 1908 (سی پی سی) کے سیکشن 12(2) کے تحت حکم اور فیصلہ کالعدم کرنے کی درخواست دائر کی، جس میں دھوکہ دہی اور غلط بیانی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ یہ حکم دیگر مدعا علیہان کے ساتھ سازش کے تحت حاصل کیا گیا۔

مدعا علیہان نے تحریری جواب کے ذریعے اس درخواست کی مخالفت کی، بعد میں ٹرائل کورٹ نے 29 جنوری کو آرڈر 17 رول 3 سی پی سی کے تحت یہ درخواست مسترد کر دی، اپیل کورٹ نے 12 اپریل کو اس فیصلے کو برقرار رکھا اور لاہور ہائی کورٹ میں دائر آئینی درخواست بھی اسی طرح خارج کر دی گئی۔

جسٹس شکیل احمد نے 2015 کے رانا تنویر خان کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور ہدایت دی تھی کہ صرف معقول وجوہات پر ہی ملتوی کرنے کی اجازت دی جائے، جب کہ مقدمات میں تاخیر کی کوششوں کو سختی سے روکا جائے۔

اسی طرح 2020 کے مون انٹرپرائزز کیس میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ سختی سے عملدرآمد کریں اور واضح طور پر بتائیں کہ اگر مقررہ وقت میں ثبوت پیش نہ کیے گئے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے، جن میں ثبوت بند کرنا بھی شامل ہے۔

مزید یہ کہ 1976 کے سیٹلمنٹ اتھارٹی کیس میں عدالت نے کہا تھا کہ اگر کوئی فریق یا اس کا اصل وکیل موجود نہ ہو تو وکیل کی طرف سے ملتوی کرنے کی درخواستیں عام طور پر قبول نہیں کی جانی چاہییں۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ یہ تمام مقدمات اس بات کی یاددہانی ہیں کہ فریقین کو عدالت کی کارروائی میں سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ حصہ لینا چاہیے، بار بار ثبوت پیش کرنے کے لیے ملتوی کرنا، سی پی سی کے رول 3 کے مقصد کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جب عدالت کسی فریق کو مناسب مواقع دے چکی ہو تو اس کے بعد ثبوت پیش کرنے کا حق ختم ہو جاتا ہے اور عدالت کو دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ سنانا چاہیے۔

1986 کے گل حسن کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اگر کوئی فریق بار بار ملتوی کروانے کے باوجود ثبوت پیش نہ کرے تو ایسی تاخیر ناقابلِ قبول ہے اور مقدمہ خارج کیا جا سکتا ہے، اس اصول کا مقصد عدالتی کارروائیوں میں غیر ضروری تاخیر کو ختم کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ جو فریق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا، وہ مقدمے کو بلاوجہ لمبا نہ کرے۔

جسٹس شکیل احمد نے زور دیا کہ ہر فریق کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کا معقول موقع ملنا چاہیے، لیکن یہ حق لامتناہی ملتوی کرنے یا بار بار رعایت لینے کی اجازت کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جسٹس شکیل احمد نے سپریم کورٹ نے مدعا علیہان مقدمات میں ثبوت پیش ہے اور کہا کہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو