چمن میں آوارہ کتوں کا حملہ، 11 معصوم بچے زخمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چمن: بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں آوارہ کتوں کے حملے نے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا، جب ہندوسوز چوک پر ہونے والے افسوسناک واقعے میں 11 معصوم بچے زخمی ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے کھیلنے کے لیے گلی میں موجود تھے کہ اچانک کئی آوارہ کتوں نے ان پر حملہ کر دیا، مقامی لوگوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچوں کو کتوں کے نرغے سے نکالا اور انہیں فوری طور پر سول اسپتال چمن منتقل کیا، جہاں زخمی بچوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے بچوں میں سے بعض کے بازو، ٹانگوں اور چہرے پر گہرے زخم آئے ہیں، تمام بچوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کو اینٹی ریبیز ویکسین لگائی جا رہی ہے اور ان کی مسلسل نگرانی جاری ہے، واقعے کے بعد علاقے میں تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ چمن میں آوارہ کتوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، لیکن ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی، اگر انتظامیہ نے فوری اقدامات نہ کیے تو وہ احتجاجی مظاہرے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ یہ مسئلہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے شہر میں پھیل چکا ہے،وعدوں کے بجائے عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔
مقامی رہائشیوں نے ڈپٹی کمشنر چمن اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے مؤثر مہم چلائی جائے تاکہ عوام، بالخصوص معصوم بچوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔
ذرائع کے مطابق میونسپل حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آوارہ کتوں کتوں کے جا رہی رہی ہے
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔