نشے کی وجہ سے انسان میں رشتوں کی تمیز ختم ہوجاتی ہے،انور عباس
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدراباد (اسٹاف رپورٹر)کسی بھی نشے کی بری عادت سے انسان کے اندر رشتوں کی تمیز ختم ہونے کی وجہ سے ہنستے بستے گھرانے بربادی کا باعث بنتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سچل سرمست ٹاؤن تعلقہ لطیف اباد یو سی 89 کے یو سی چیئرمین انور عباس نے بھائی خان ویلفیئر کی جانب سے گجراتی پاڑہ میں انسداد منشیات کے حوالے سے منعقدہ اگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں ویلفیئر کے فاؤنڈر جنرل سیکرٹری حاجی محمد یاسین ارائیں۔تعلقہ چیئرمین حاجی عبدالحمید مٹھو۔تنظیم خادم انسانیت کے صدر سجاد احمد خان۔نائب صدر حاجی محمد اسلم ملک۔بی کے ڈبلیو کے سینیئر نائب صدر خان افتاب احمد خان۔نائب صدر شاہد راجپوت۔وائس چیئرمین اکرم شاہ۔نائب صدر دوئم حاجی محمد اسماعیل شیخ۔لالا محمد حسن۔محمد اسماعیل شیخ جوائنٹ سیکریٹری۔یونس عباسی۔سید مشتاق احمد۔شوقین و دیگر نے بھی شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ نشے کی لت میں مبتلا اپنے نوجوانوں کو تنہا نہ چھوڑیں بلکہ ان کا علاج اور ان کی توجہ کھیلوں کی جانب مبزول کرائیں۔سجاد احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔حاجی محمد یاسین ارائیں نے کہا کہ پسماندہ علاقے میں اگاہی سیمینار رکھنا اس لیے ضروری تھا کہ ان علاقوں میں کھلے عام منشیات فروخت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یہاں منشیات کا استعمال بہت زیادہ ہے۔خان افتاب احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت اس سلسلے میں جو اقدامات کر رہی ہے ہمیں مل کر ان کا ساتھ دینا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔