’’میرے ہی شاگرد نے شادی کی پیشکش کی تھی‘‘؛ رومیسہ خان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اداکارہ اور سوشل میڈیا اسٹار رومیسہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں انہیں اپنے ایک سابق شاگرد کی جانب سے شادی کی پیشکش موصول ہوئی تھی، جس پر وہ خود بھی حیران رہ گئیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رومیسہ خان نے بتایا کہ اداکاری کے میدان میں آنے سے قبل وہ طلبا کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں تاکہ نیا آئی فون خرید سکیں۔ اداکارہ نے بتایا کہ اُس وقت ان کی عمر صرف 17 سال تھی اور وہ آٹھویں جماعت کے لڑکوں کو پڑھاتی تھیں۔
رومیسہ خان نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انہی طلبا میں سے ایک نے انہیں پیغام بھیجا اور کہا کہ وہ ان سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اس کےلیے اپنی والدہ کو رشتے کے لیے گھر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اداکارہ کے مطابق یہ پیغام پڑھ کر وہ مسکرا دیں کیونکہ اس واقعے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ اپنے شاگردوں سے عمر میں زیادہ بڑی نہیں تھیں۔ اسی لیے انہوں نے اس پیشکش کو ہنسی مذاق میں ٹال دیا۔
واضح رہے کہ رومیسہ خان نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ٹک ٹاک سے کیا تھا، جہاں ان کی مقبولیت نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ بعدازاں انہوں نے ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھا اور مختلف ڈراموں میں اپنی اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔