آمنہ شیخ اور محب مرزا کی علیحدگی کیوں ہوئی؟ اداکارہ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ آمنہ شیخ نے حال ہی میں ایک یوٹیوب شو میں اپنی ذاتی زندگی اور شوبز سے وقفے کے بارے میں تفصیل سے بات کی ہے۔
مات، پاکیزہ، داَم، اڑان اور میں عبدالقادر ہوں جیسے مقبول ڈراموں میں بہترین اداکاری کیلئے مشہور اداکارہ آمنہ شیخ طلاق کے بعد میڈیا انڈسٹری سے تقریباً سات سال دور رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محب مرزا سے شادی ختم ہونے اور بیٹی کی پیدائش کے بعد انہیں مکمل ذہنی و جذباتی بحالی کی ضرورت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ان کے اردگرد بہت زیادہ دباؤ اور منفی ماحول تھا، جس سے بچنے کے لیے انہوں نے امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں ان کی فیملی پہلے سے موجود تھی اور انہوں نے اداکارہ کو مضبوط سہارا دیا۔
آمنہ شیخ کے مطابق اسی 7 سال کے دوران انہوں نے خود کو سنبھالنے، اپنی زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے اور مستقبل کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے عزم کیا۔ اداکارہ نے بتایا کہ دبئی منتقلی کے دوران ان کی ملاقات عمر سے ہوئی، اور دونوں خاندانوں کی رضا مندی کھے بعد ہی ان دونوں نے باہمی رضا مندی سے شادی کا فیصلہ کیا۔
اپنی ذاتی زندگی کو نجی رکھنے کے حوالے سے آمنہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی فیملی کو سوشل میڈیا کی توجہ اور غیرضروری بحث سے بچانا چاہتی ہیں، اسی لیے وہ اپنی بیٹی یا گھر کے معاملات کو عوامی سطح پر شیئر نہیں کرتیں۔
یاد رہے کہ اداکارہ آمنہ شیخ اور محب مرزا کی شادی 2019 میں طلاق پر ختم ہوئی جس کے بعد محب مرزا نے ساتھی اداکارہ صنم سعید سے شادی کرلی جس کا اعلان رواں سال کیا گیا۔
آمنہ شیخ نے بھی طلاق کے بعد دوسری شادی کرلی جس سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ