اوٹاوا: کینیڈین حکومت نے عارضی ویزہ درخواستوں کو بڑے پیمانے پر منسوخ کرنے کے اختیارات دینے پر غور شروع کردیا ہے، جس سے بھارت اور بنگلادیش کے شہری زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

کینیڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) اور کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ انہیں اجتماعی طور پر ویزے منسوخ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ اس کا مقصد ایسے معاملات میں فوری کارروائی ممکن بنانا ہے جہاں فراڈ، جعلسازی یا نظام کے غلط استعمال کے شواہد موجود ہوں۔

دستاویزات کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت حکومت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ مخصوص حالات جیسے جنگ، فراڈ یا صحت عامہ کے بحران میں بیک وقت بغیر ہر درخواست کو الگ الگ دیکھنے کے ہزاروں ویزے منسوخ کرسکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈین حکام اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر ایک ورکنگ گروپ بنا چکے ہیں، جو ویزا مسترد کرنے اور منسوخ کرنے کے نئے قانونی فریم ورک پر کام کر رہا ہے۔

اگرچہ مجوزہ قانون میں کسی ملک کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم کینیڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ داخلی دستاویزات میں بھارت اور بنگلادیش کو "مخصوص چیلنجز والے ممالک" کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی شہریوں کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عارضی ویزہ نظام میں جعلسازی اور دستاویزات کی تصدیق سے متعلق مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔

کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امیگریشن کے نظام کو مزید شفاف، محفوظ اور منصفانہ بنانے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہی ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے فراڈ یا غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت