سعودی عرب اور یو ای اے کا پیسہ کیسے بحران پیدا کر رہا ہے؟!
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: خلیج فارس کے عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کئی دہائیوں کے دوران عرب ممالک کو اربوں درہم، ریال و ڈالر امداد دی ہے۔ لیکن اس امداد کا زیادہ تر حصہ، حقیقی ترقی و عوام کے حالات بہتر بنانے کی بجائے، سیاسی، جماعتی، قبائلی اور سماجی شخصیات کی ذاتی وفاداریاں خریدنے یا ایک فریق کی دوسرے کے خلاف عسکری حمایت پر صرف کیا گیا۔ جیسا کہ آج ہم سوڈان میں دیکھ رہے ہیں۔ تحریر: فتانہ غلامی
گزشتہ دہائیوں میں، خلیج فارس کے عرب ممالک نے دیگر عرب ممالک کو اربوں ڈالر امداد فراہم کی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ امداد ان ممالک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا مُحرک بنتی، مگر ان وسائل کا بڑا حصہ عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی بجائے سیاسی وفاداریوں اور فوجی حمایت خریدنے پر صرف کیا گیا۔ خطے میں خلیجی ممالک کے پیسے کے اس تخریب کارانہ مصرف سے یمن، سوڈان، لیبیاء اور دیگر بحران زدہ معاشروں پر پڑنے والے اثرات تشویش ناک ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ خلیج فارس کے عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کئی دہائیوں کے دوران عرب ممالک کو اربوں درہم، ریال و ڈالر امداد دی۔ لیکن اس امداد کا زیادہ تر حصہ، حقیقی ترقی و عوام کے حالات بہتر بنانے کی بجائے، سیاسی، جماعتی، قبائلی اور سماجی شخصیات کی ذاتی وفاداریاں خریدنے یا ایک فریق کی دوسرے کے خلاف عسکری حمایت پر صرف کیا گیا۔ جیسا کہ آج ہم سوڈان میں دیکھ رہے ہیں، جہاں سعودی عرب، جنرل برہان کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات، حکومت مخالف باغی کمانڈر حمیدتی کی۔
یہ حمایت معاشی یا ترقیاتی نہیں بلکہ محض عسکری ہے۔ ایسے ملک میں جو قحط، غربت اور محرومیوں سے نبرد آزما ہے۔ وہاں ایسی حمایت کا نتیجہ تباہی، قتل، بیماری اور نفرت کے سوا کچھ نہیں۔ لیبیاء میں بھی یہی طرز عمل اپنایا گیا۔ امداد کے نام پر عسکری اہداف کی تکمیل کا عمل، نہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بلکہ قطر کی جانب سے بھی بالکل اسی راہ و روش کے ذریعے جاری و ساری ہے۔ ثروت مند لیبیاء میں اس پالیسی کا نتیجہ سوڈان اور یمن کے سانحے سے کسی طور کم نہیں۔ اسی طرح کی مثالیں ہم نے صومالیہ سے لے کر شام، لبنان اور حتیٰ کہ مصر میں بھی دیکھیں۔ خاص طور پر بہار عرب کے بعد جب حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹایا گیا، قبل ازیں کہ مصر اس بحران سے نکل پاتا، ہم نے دیکھا کہ کیسے خلیجی ممالک کے پیسے، خصوصاً قطر نے تباہ کن کردار ادا کیا۔ یمن میں ان ممالک کے پیسوں کے تخریب کارانہ نتائج صاف واضح ہیں۔ وفاداریاں خریدنے اور دیگر منصوبوں کی خاطر، سعودی عرب 1960ء کی دہائی سے لے کر اب تک اربوں ڈالر یمن میں لگا چکا ہے۔
1990ء میں یمن میں داخلی اتحاد سے قبل، شمالی یمن میں ان رقوم کا محض ایک قلیل حصہ ہی حکومت کے خزانے، تعلیم، صحت، سڑکوں، بجلی اور پانی جیسے شعبوں کی ترقی پر خرچ ہوا، جبکہ اس رقم کا زیادہ تر حصہ حکومت، قبائل، فوج یا مذہبی گروہوں میں بااثر شخصیات کی جیبوں میں گیا تاکہ ریاض کے لئے ان کی وفاداری یقینی بنائی جا سکے۔ ان پیسوں کا ایک حصہ سابقہ جنوبی یمن کی حکومت کے خلاف جنگ پر بھی صرف کیا گیا۔ یمن کے داخلی اتحاد کے بعد یہ امداد جاری رہی، البتہ عوام کے لئے غیر محسوس نتائج کے بغیر۔ اگر سعودی عرب ان وسائل کو عوام کے حالات بہتر بنانے کے لئے استعمال کرتا تو آج اس کے پاس عوامی اطمینان و حمایت ہوتی اور اسے داخلی خطرات کا سامنا نہ ہوتا۔ لیکن افسوس وہی پرانے ناکارآمد طریقے جاری ہیں یعنی لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کے بجائے ذاتی وفاداریاں خریدنا۔ ہم اپنے خلیجی بھائیوں کو خیرخواہانہ نصیحت کرتے ہیں کہ وہ ان رقوم کے خرچ اور تقسیم کے طریقہ کار پر نظر ثانی کریں، خواہ وہ یمن کے لئے ہو یا دیگر ممالک کے لئے۔ یہ وسائل، جو آنے والی نسلوں کے لئے ہیں، فرسودہ وفاداریوں کو مضبوط کرنے کی بجائے داخلی ترقی پر صرف ہونے چاہئیں۔
اگر ان ممالک کے شہریوں کو یہ احساس ہو جائے کہ عرب ممالک کی امداد ان کے فائدے میں ہے، ان کی زندگیوں کو بہتر بناتی ہے، ان کے وقار کی حفاظت کرتی ہے اور ان کے معاشروں کو تفرقہ و عسکریت پسندی سے دور رکھتی ہے، تو یمن سے لے کر دیگر علاقوں تک کے یہی عرب عوام، خلیجی ممالک کے حقیقی پشت و پناہ بن جائیں گے۔ اس صورت میں، خلیجی ممالک نہ صرف شخصیات کی وفاداری، بلکہ قوموں کا احترام اور حمایت حاصل کریں گے۔ بجائے اس کے کہ وہ اُن شخصیات پر انحصار کریں جن کے پاس خیالی دشمنوں سے ڈرانے کے علاوہ کوئی فن نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات سعودی عرب اور خلیجی ممالک صرف کیا گیا بہتر بنانے عرب ممالک شخصیات کی ممالک کے کی بجائے عوام کے کے لئے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔