Juraat:
2026-07-24@10:39:42 GMT

افغان طالبان اورٹی ٹی پی کی حمایت

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

افغان طالبان اورٹی ٹی پی کی حمایت

ریاض احمدچودھری

اقوام متحدہ کے ایک پینل نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی تحریک طالبان پاکستان کو لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کر رہے ہیں، جب کہ واشنگٹن پوسٹ نے دستاویزی طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ درجنوں امریکی ساختہ ہتھیار اب پاکستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں، جو ریاست کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ان ہتھیاروں کے پھیلا ئو کی ایک وجہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں نگرانی کی کمی ہے۔ طالبان کے قبضے کی وجہ سے( ایس آئی جی اے آر) کو افغان نیشنل ڈیفنس اور سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) کو فراہم کیے گئے کسی بھی سامان یا بنائے گئے سہولتوں کی تفتیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔امریکی محکمہ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تقریبا 7 ارب ڈالر 10 کروڑ مالیت کا امریکی فراہم کردہ سامان چھوڑا گیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ ویڑن ڈیوائسز اور 160 سے زیادہ طیارے شامل ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں پکڑے گئے کم از کم 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبرز افغان فورسز کو فراہم کیے گئے ہتھیاروں سے میل کھاتے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے کچھ رائفلز اور کاربائنس اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جو 2021 سے پہلے ٹی ٹی پی کے جنگجو استعمال کرتے تھے۔اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس تشویش کی بازگشت کرتی ہیں، 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ (2025) میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے تقریبا 6 ہزار جنگجو افغانستان کے غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، اوروزگان، اور زابل صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور القاعدہ کے ساتھ تربیتی سہولتوں کا اشتراک کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ، ساندرا جینسن لینڈی نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کو کابل میں حکام کی طرف سے لاجسٹک اور اہم مدد مل رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے رپورٹس میں طالبان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے رہنماں کو مہمان خانوں کی فراہمی، ہتھیاروں کی اجازت، نقل و حرکت کی اجازت، اور گرفتاری سے چھوٹ جیسے انتظامات کی تفصیل دی گئی ہے، ان سہولیات کی وجہ سے گروپ کو افغان علاقے میں مزید گہرا اثر رسوخ حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔(ایس آئی جی اے آر) 2025 کی سہ ماہی رپورٹس میں بھی سرحد پار حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں جنوبی وزیرستان میں ایک حملہ بھی شامل ہے جس میں پاکستان کے 16 سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔
امریکا نے افغان فورسز کے لیے 96 ہزار زمینی گاڑیاں، 4 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہتھیار، 17 ہزار 400 نائٹ ویڑن ڈیوائسز، اور کم از کم 162 طیارے خریدے تھے۔(، جولائی 2021 تک جب افغان حکومت کا سقوط ہوا) افغان فضائیہ کے پاس 131 آپریشنل امریکی فراہم کردہ طیارے تھے، جن میں سے تقریبا تمام اب طالبان کے زیر قبضہ ہیں۔رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکا کی افغانستان میں ایک مستحکم اور جمہوری حکومت بنانے کی خواہش شروع ہی سے غلط مفروضوں اور غیر ہم آہنگ شراکت داریوں کی وجہ سے ناکام ہوئی۔رپورٹ میںمزیدکہا گیا کہ امریکی فیصلوں کیوجہ سے بدعنوان، حقوق کی پامالی کرنے والے طاقتور افراد کو تقویت ملی، جس سے حکمرانی کو نقصان پہنچا، اور باغی گروپوں کی بھرتی طاقت حاصل ہوئی، اور آخرکار وہ ادارے جو امریکا تعمیر کرنا چاہتا تھا، کمزور ہو گئے، اور 29 ارب امریکی ڈالر دھوکا دہی اور بدعنوانی کی نذر ہوئے۔انسانی قیمت کہیں زیادہ تھی، دسیوں ہزار افغان اور 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اور اس کے باوجود طالبان کا اقتدار بحال ہو گیا، جو اب وہی سامان استعمال کر رہے ہیں جو امریکا نے اپنے حریفوں کے لیے خریدا تھا۔ایک مریکی رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے کہ 2021 میں افغانستان سے واپسی کے دوران چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار، فوجی سامان اور سیکیورٹی انفرااسٹرکچر اب طالبان کی سیکیورٹی مشینری کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔رواں ہفتے جاری کی گئی 137 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو اسپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (ایس آئی جی اے آر)نے جاری کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں اور واشنگٹن پوسٹ کی ایک تفتیشی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ہتھیاروں میں سے کچھ پہلے ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی )تک پہنچ چکے ہیں، جس سے پاکستان میں حملوں میں شدت آئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کانگریس نے 2002 سے 2021 تک افغانستان کی تعمیر نو اور جمہوری منتقلی کے لیے تقریبا 144 ارب 70 کروڑ ڈالر فراہم کیے، لیکن آخرکار نہ تو تعمیر نو ہوئی اور نہ ہی جمہوری منتقلی۔ اقوام متحدہ کے حالیہ جائزے اس ناکامی کے علاقائی اثرات کو مزید واضح کرتے ہیں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: واشنگٹن پوسٹ اقوام متحدہ رپورٹ میں ٹی ٹی پی

پڑھیں:

مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ

—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر نے پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے سرکاری اوقات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہائی کمشنر آف پاکستان ٹیپو عثمان کی ہدایت پر اب قونصل خانہ کمیونٹی خدمات کے لئے روزانہ صبح 8:00 بجے کام کا آغاز کرے گا۔

قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے اوقات کار سے کمیونٹی کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جبکہ روزانہ اپوائنٹمنٹ کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔

تمام درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قونصل خانے کی آن لائن اپوائنٹمنٹ پورٹل کے ذریعے وقت لینا ہوگا۔

یہ اپوائنٹمنٹ ہر ہفتہ کے روز صبح 10:00 بجے جاری کی جائیں گی۔درخواست گزار اپوائنٹمنٹ بک کرتے وقت اپنی ذاتی معلومات استعمال کریں اور مقررہ وقت پر پہنچیں۔

30 منٹ سے زیادہ تاخیر سے آنے والے درخواست گزاروں کو نئی اپوائنٹمنٹ لینا ہوگی۔

قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل نے کہا کہ یہ اقدامات کمیونٹی کو مؤثر، شفاف اور بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت