Express News:
2026-06-03@06:51:01 GMT

اسموگ کے مُضر اثرات سے کیسے بچا جائے؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

اللہ تعالیٰ نے جس کائنات کی تخلیق کی وہ بے حد وسیع ، خوبصورت ، حسین وجمیل ، صفاف وشفاف اور اجلی ہے۔لیکن انسان اپنی نت نئی ایجادات اور مصنوعات کے ذریعے اس کائنات کو آلودہ اور تباہ کر رہا ہے۔ یہ آلودگی درحقیقت زہر ہے جو انسانی صحت اور زندگی کو برباد کررہی ہے۔

اس وقت جو چیزیں کائنات کو آلودہ اور انسانی صحت کو تباہ کررہی ہیں ان میں سر فہرست اسموگ ہے۔ اسموگ بنیادی طور پر ایسی فضائی آلودگی ہے جو انسانی آنکھ ،دماغ اور جسم کو بُری طرح سے متاثر کرتی ہے، اسموگ کو زمینی ’’ اوزون ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ،یہ ایک ایسی بھاری اور سرمئی دھند کی تہہ کی مانند ہو تی ہے جو ہوا میں جم جاتی ہے۔

اسموگ میں موجود دھوئیں اور دھند کے اس مرکب یا آمیزے میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین جیسے مختلف زہریلے کیمیائی مادے بھی شامل ہوتے ہیں۔ پھر فضا میں موجود ہوائی آلودگی اور بخارات کا سورج کی روشنی میں دھند کے ساتھ ملنا اسموگ کی وجہ بنتا ہے۔جو چیزیں اسموگ کے بننے اور پھلنے پھولنے کا سبب بنتی ہیں ان میں بارشوں میں کمی، فصلوں کا جلایا جانا، کارخانوں گاڑیوں کا دھواں ،درختوں کا بے تحاشا کٹاؤ اور قدرتی ماحول میں بگاڑ شامل ہے۔

سب سے پہلے ہمیں دھند اور اسموگ میں فرق معلوم ہونا چاہئے، کیونکہ اسموگ کی موجودگی اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں جاننے کے بعد ہی ہم اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔دھند اور اسموگ میں بظاہر کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا لیکن دھند اور اسموگ کی نوعیتیں اور کیفتیں مختلف ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ہوا میں موجود بخارات کم درجہ حرارت کی وجہ سے کثیف ہو جاتے ہیں تو یہ ماحول میں سفیدی مائل ایک موٹی تہہ بنا دیتے ہیں جسے دھند کہا جاتا ہے، اسی دھند میں دھواں اور مختلف زہریلے کیمیائی مادے شامل ہو جائیں تو یہ دھند مزید گہری اور کثیف ہو جاتی ہے جسے اسموگ کہاجاتا ہے۔

 ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد فضائی آلودگی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، دراصل اسموگ میں بنیادی طور پر ایک زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو پرٹیکولیٹ مادہ 2.

5 کہلاتا ہے اور یہ پی ایم 2.5 ایک انسانی بال سے تقریباً چار گنا باریک ہوتا ہے۔ یہ مادہ ہوا کے ذریعے انسانی پھیپھڑوں میں باآسانی داخل ہو کر پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ یہ اس قدر خطرناک ہوتا ہے کہ پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اسموگ سے بچاؤ کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ وہ ہے جو ہر انسان اپنے طور پر اختیار کرسکتا ہے۔ یعنی مناسب حفاظتی لباس پہنا جائے۔

اس کا مطلب ہے کہ جب آپ باہر جائیں تو ماسک پہنیں یا دوسرے آلات استعمال کریں جو آپکو نقصان دہ ذرات سے پھیلنے والی آلودگی سے بچاتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ جس قدر ممکن ہو اسموگ کے اثرات سے بچا جائے تاہم اگر آپ کی رہائش زیادہ آلودگی والے علاقے میں ہے تو پھر ضروری ہے کہ اپنی صحت کی حفاظت کیلئے دوسرے طریقے بھی اختیار کریں۔یعنی دل کے مریض گھر وں میں رہ کر اسٹیم لیں، ٹھنڈے مشروبات اور کھانے پینے کی کھٹی ترش اشیاسے پرہیز کریں ، اگر کسی کو دل یا پھیپھڑوں کا دائمی مسئلہ ہے، جیسے دمہ یا اس جیسی کوئی دیگر بیماری ہے تو پھر ڈاکٹر سے اپنے آ پ کو فضائی آلودگی سے بچانے کے طریقوں کے بارے میں مشورہ کریں۔

ایسی صورت میں ڈاکٹر آپ کو سانس لینے میں مدد کے لیے کوئی دوا تجویز کر سکتا ہے۔اگر کسی کے سینے میں جکڑن، آنکھوں میں جلن، یا کھانسی کی علامات ہیں تو ڈاکٹر سے ملیں، بچوں کو آلودگی کی بلند سطح کے اثرات بڑوں کی نسبت زیادہ محسوس ہوتے ہیںاس لئے بچوں کے لئے حفاظتی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اسموگ سے بچاؤ کیلئے اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کے شیشے بند رکھیں، جب تک آلودہ دھوئیں والا موسم ختم نہیں ہو جاتا تب تک کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں ، خاص کر سانس کی تکلیف میں مبتلا افراد ایسے موسم میں ہرگز باہر نہ نکلیں، ایسے موسم میں جسمانی ورزش کرنے سے بھی گریز کیا جائے اور اپنی گاڑیوں کو کھڑے رکھنے کی پوزیشن کے دوران انجن کو چلتا مت چھوڑیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسموگ سے بچنے کے لئے جہاں حکومت کو آلودگی کے خاتمہ میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ماحول دوست ایندھن کا استعمال نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ اس بارے میں ضروری ہے کہ حکومت دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرے جو لوگ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں چلاتے ہیں ان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے جبکہ ہم سے ہر شخص خود بھی ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مرمت کروائے تاکہ فضا میں آلودگی نہ پھیلے۔

نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں پنجاب اور خاص کر لاہور میں اسموگ کی وباء عام ہوجاتی ہے۔ حکومت اس سے نمٹنے کے کیلئے ہر سال پنجاب بھر میں اسموگ ایمرجنسی نافذ کردیتی ہے ایک ماہ کے لئے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں طلبا و طالبات کیلئے ماسک لازمی قراردے دیا جاتا ہے یا پھر کچھ دنوں کیلئے سکولوں کالجوں میں چھٹیاں دے دی جاتی ہیں۔کچھ دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔

 اصل بات یہ ہے کہ ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینے میں اسموگ سے بچاؤ کیلئے جتنے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں یہ سب عارضی ہیں اصل بات یہ ہے کہ لاہور جو پاکستان کا دل ہے ، پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی ، تجارتی اور صنعتی مرکز ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت ہے اس شہر میں ٹریفک بے ہنگم ہوچکی ہے ، لاہور کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ، لاہور جو کبھی باغوں کا شہر تھا اب یہ شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے۔ ہریالی کا فقدان ہے ، آبادی کے تناسب سے درخت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گندگی پھیلانے والوں کے خلاف کوئی کروائی نہیں کی جاتی۔

اگر چہ پنجاب حکومت ہر سال لاہور کو اسموگ زدہ شہر قراردیتی ہے اس مناسبت سے وقتی طور پر کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن یہ اقدامات موقع محل اور ضروریات کی نسبت قطعی ناکافی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگلے سال اسموگ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اسموگ اہل لاہور کیلئے مستقل روگ بنتی جا رہی ہے لہذا اب ضروری ہوچکا ہے کہ انتظامیہ لاہور کی آبادی کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کیلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

مثلاََ یہ ہے کہ بے ہنگم آبادی کو کنٹرول کیا جائے ، ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جائے ، شجر کاری میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔یہ وہ اقدامات ہیں جن پر عمل کرکے اسموگ جیسی آفت پر قابو پایا جاسکتا ہے اور لاہور کو بھی بڑی تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔ اسموگ کا تدارک اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ چھوٹے بچوں کی صحت کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے جبکہ بچے ہی کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ بچے محفوظ ہوں گے تو ہم بھی بحیثیت قوم محفوظ رہیں گے۔

اسموگ کا تدارک کرنا صرف حکومت کا ہی کام نہیں بلکہ ہم سے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اس مہم میں اپنا حصہ ڈالے۔ ہم میں سے اکثر کی یہ عادت ہے کہ ہر کام کا بار حکومت پر ڈالتے ہیں جبکہ خود ذمہ دار شہری کا ہونے کا ثبوت نہیں دیتے۔ جبکہ اصول یہ ہے کہ افراد سے معاشرہ بنتا ہے اور معاشرے سے قوم تشکیل پاتی ہے۔ جس معاشرے کے افراد جس قدر بااصول ، مہذب اور ذمہ دار ہوں گے۔

اس سے تشکیل پانے والی قوم اتنی ہی کامیاب ، ذمہ دار اور مہذب ہوگی۔ لہذا ضروری ہے کہ جب ہم بائیک یا کوئی گاڑی چلا رہے ہیں تو یہ بات یقینی بنائیں کہ ہماری گاڑی دھواں تو نہیں چھوڑ رہی۔اگر ہم سے کوئی فیکٹری یا کارخانے کا مالک ہے تو یہ بات یقینی بنائے کہ اس کی فیکٹری یا کارخانہ آلودگی پھیلانے کا سبب تو نہیں بن رہا۔ اسی طرح باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کریں۔ ممکنہ حد تک پودے لگائیں اور شجر کاری کریں۔

سیاسی جماعتوں کے پاس تو خیر سے کوئی مثبت اور تعمیری ایجنڈا نہیں البتہ مذہبی جماعتوں اور مختلف این جی اوز کو چاہئے کہ وہ وقتاََ فوقتاََ اسموگ کے بارے میں آگاہی مہم چلائیںاور عام لوگوں کو شجر کاری کی ترغیب دلائیں۔ اس لیے کہ پاکستان ہمارا وطن ہی نہیں ہمارا گھر بھی ہے۔ ہم سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس ملک کیلئے اس طرح سوچے ، غور وفکر اور کوشش کرے کہ جس طرح اپنے گھر کیلئے کی جاتی ہے۔ اسی صورت میں یہ ملک ہمارے لیے اور ہماری آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سے ہر شخص شجرکاری کرے اور اسموگ کے خاتمہ کیلئے اپنا تاکہ اس بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پایا جاسکے۔

٭بارشوںمیں کمی، فضلوں کا جلایا جانا، کارخانوں گاڑیوں کا دھواں، درختوں کی بے تحاشا کٹائی اسموگ کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فضائی ا لودگی ضروری ہے کہ اسموگ میں اور اسموگ اسموگ کے اسموگ کی ہوتے ہیں اسموگ سے یہ ہے کہ جاتا ہے جاتی ہے ہے اور ہر سال ا لودہ اور اس

پڑھیں:

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں مریدوں سے اہم ملاقات کی ہیں تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

شہزادہ شاہ رحیم الحسینی امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 مئی کی شام اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوانِ صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جبکہ اگلی صبح وزیراعظم نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا۔ پرنس شاہ رحیم 22 مئی کو گلگت بلتستان پہنچے اور مریدوں سے ملاقات اور دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔

پرنس شاہ رحیم کا دورہ اور گلگت بلتستان الیکشن

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ان کے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان اور چترال میں ان کے مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پرنس رحیم نے ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان میں اپنے مریدوں سے ملاقات کی جب وہاں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع تھی۔ اسماعیلی برادری کے دورے کا سیاست اور الیکشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انہوں نے سیاست پر کوئی بات کی۔ انہوں نے اپنے مریدوں سے خطاب میں تعلیم، معاشیات، ہنر، موسمیاتی تبدیلی اور جدید دور کے تقاضوں پر بات کی، تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے دورے کا الیکشن پر کچھ حد تک بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

مریدوں کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟

آغا خان کے دورے اور گلگت بلتستان الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر آغا خان پنجم کے دورے کا الیکشن پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق آغا خان کا خاندان غیر سیاسی ہے اور کبھی انہوں نے کسی ملک کی سیاست یا انتخابات پر بات کی ہے نہ ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بھی انہوں نے کہیں بھی سیاست پر بات نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام

نوجوان صحافی کامران علی جنہوں نے آغا خان پنجم کے دورے کی کوریج کی، کا کہنا ہے کہ پرنس رحیم نے اپنے مریدوں سے خطاب میں سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آغا خان نے سیاست پر بات نہیں کی، لیکن جن رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا اور عزت دی، ان کا گراف مریدوں کی نظر میں بلند ہو گیا۔ ’گلگت بلتستان میں اسماعیلی برادری کی خاصی آبادی ہے اور ان کے ووٹ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔

کامران علی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بیٹی اور خاتونِ اول کے ساتھ خود نور خان ایئر بیس گئے اور آغا خان کا استقبال کیا۔ جب وہ ایوانِ صدر پہنچے تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کا خیر مقدم کیا۔

کامران علی نے بتایا کہ جب آغا خان شاہ رحیم الحسینی کے والد شاہ کریم الحسینی کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تعزیت کے لیے پرتگال گئے تھے۔ ’اگرچہ آغا خان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا جاتا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی اہمیت مریدوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے‘۔

کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا، لیکن مرید سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور امام کی عزت و وقار کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟

ان کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر آغا خان کے دورے کا سیاسی سطح پر کوئی فائدہ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کو ہو گا، کیونکہ انہوں نے اس دورے کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ وفاق میں صدر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے گورنرز نے ان کا بھرپور استقبال کیا‘۔

آغا خان کے دورے کا فائدہ کس حد تک ہو گا؟

اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ذاکر خان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اپنے امام کے دیدار کے لیے کراچی سے گئے تھے، نے بتایا کہ اس دورے کے دوران کہیں بھی انہوں نے سیاست پر بات نہیں کی۔

ذاکر کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جس طرح آغا خان کا استقبال کیا اور عزت دی، اس سے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ گئی۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا۔ ذاکر کا خیال ہے کہ اس دورے سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے دورے کے دوران پیش پیش رہ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ’اسماعیلی برادری کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ بھی میرٹ پر ہی دیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن دیگر جماعتوں سے بھی اسماعیلی امیدوار میدان میں ہیں۔ ’اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار جماعت کے دفاتر یا دیگر نجی ملاقاتوں میں اس دورے کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے امام کو دیے گئے عزت و احترام کو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا  گلگت میں خطاب

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جبکہ نواز شریف بھی وہاں پہنچے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے آغا خان کو بہت عزت دی، لیکن الیکشن مہم میں اس کا ابھی تک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جس جماعت نے امام کو عزت دی ہے، اس کا گراف اسماعیلی برادری میں بلند ہو گیا ہے تاہم یہ مقامی امیدواروں پر ہے کہ وہ اسے کیسے کیش کرتے ہیں‘۔

ذاکر نے بتایا کہ اس دورے کو سیاست کے ساتھ منسلک کرنے سے سیاسی امیدواروں اور جماعتوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسماعیلی برادری کے لوگ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور موقع پرستوں کو پسند نہیں کرتے۔

سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات

اسماعیلی کونسل گلگت کی امورِ عامہ و سیکیورٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ادارہ ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی جاری انتخابی مہم میں کسی سیاسی جماعت، امیدوار یا انتخابی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔

مقامی نیوز ویب سائٹ پامیر ٹائمز کے مطابق انتخابات سے قبل جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار پورے خطے میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسماعیلی کونسل ایک امامت کا ادارہ ہے جو سیاسی معاملات میں سخت غیرجانبداری برقرار رکھتی ہے اور کسی امیدوار یا جماعت کی توثیق نہیں کرتی۔

اسماعیلی کونسل نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے۔

بیان میں کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور آزاد امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جمہوری اقدار، باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کے مطابق ہوگا۔

مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

بیان میں مزید زور دیا گیا کہ ہر اسماعیلی ووٹر اپنے ضمیر، سیاسی سمجھ بوجھ اور ذاتی رائے کے مطابق آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اس پر زور دیا گیا کہ کونسل کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی ہدایت نہیں دیتی۔

اسماعیلی کونسل نے کمیونٹی کے افراد پر زور دیا کہ وہ انتخابی مدت کے دوران احترام، اتحاد، رواداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھیں، سیاسی وابستگیوں کو ذاتی معاملہ سمجھیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو ترجیح دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف علی زرداری آصفہ بھٹو آغا الیکشن بلتستان پرنس پرنس رحیم آغا پیپلز پارٹی دورہ پاکستان رحیم عام انتخابات گلگت

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا