’بہو کو کنٹرول کیسے کیا جائے؟‘،صبا فیصل کے مشوروں پر فضا علی اور مامیا شجافر کی سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
معروف اداکارہ صبا فیصل نے ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں اپنی باتیں کرتے ہوئے بہوؤں کے لیے اہم مشورے دیے، جس پر فضا علی اور مامیا شجافر نے تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ صبا فیصل نے انڈین کمرشل کرنے سے انکار کیوں کیا؟
صبا فیصل نے کہا کہ ساس کو چاہیے کہ بہو کے کپڑے اپنی مرضی سے نہ چننے دے بلکہ اپنی پسند کے مطابق کپڑے خریدے جائیں۔ ان کے مطابق اگر پہلے دن سے لڑکی کو اپنی پسند کی اجازت دے دی جائے تو یہ غلط انتخاب کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خوش رہنے کے لیے ساس کے گھر میں بہو کو ’بند کان اور بند منہ‘ ہونا چاہیے تاکہ وہ باآسانی گزارا کر سکے۔
لیکن فضا علی اور مامیا شجافر نے صبا فیصل کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا۔ فضا علی نے انسٹاگرام پر کہا کہ گھر تبھی خوشگوار ہوتا ہے جب وہاں رہنے والی عورت پر سکون ہو۔ فیصلے مل کر کرنے چاہییں اور باہمی احترام اور محبت ضروری ہے۔ اگر عورت کو صرف ’امن‘ قائم رکھنے کے لیے خاموش رہنا پڑے تو وہ گھر نہیں بلکہ محض رہائش ہوگی۔
یہ بحث سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو گئی اور لوگوں میں مختلف ردعمل پیدا کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بہو صبا فیصل فضا علی مامیا شجافر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بہو صبا فیصل فضا علی مامیا شجافر مامیا شجافر صبا فیصل فضا علی کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔