بینک الفلاح نے اٹلس ہونڈا کی موٹرسائیکلوں کے لیے محدود مدت کی زیرو مارک اپ یعنی بلا سودی قسط اسکیم متعارف کرائی ہے، جس کے تحت صارفین مقبول ہونڈا ماڈلز آسان اقساط پر خرید سکتے ہیں۔

بینک الفلاح کی جانب سے پیش کی گئی یہ نئی سہولت ایسے وقت میں متعارف کرائی گئی ہے جب مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے باعث نئی موٹر سائیکل خریدنا عام خریداروں کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا نے سی جی 150 اور الیکٹرک بائیک لانچ کردی، قیمتیں بھی حیران کن

بینک کے مطابق ہونڈا کے 3 مقبول ترین ماڈلز سی ڈی 70، سی جی125  اور سی جی 150  اب بینک الفلاح کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ماہانہ اقساط پر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

بینک الفلاح کے مطابق ہونڈا کے مقبول ماڈل سی ڈی 70  کی قیمت 159,900 روپے مقرر کی گئی ہے، جسے صارفین ماہانہ 26,650 روپے کی اقساط پر حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: صرف 14 ہزار روپے میں ہونڈا آئیکون ای خریدنے کا سنہری موقع، مگر کیسے؟

اسی طرح سی جی125  کی قیمت 238,500 روپے ہے اور اس کے لیے ماہانہ قسط 39,750  روپے مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ سی جی 150  کی قیمت 459,900 روپے رکھی گئی ہے، جسے 76,650  روپے ماہانہ اقساط پر خریدا جا سکتا ہے۔

بینک الفلاح کے مطابق یہ تمام موٹر سائیکلیں بینک الفلاح کریڈٹ کارڈ کے ذریعے فنانس کی جا سکیں گی، اگرچہ اس اسکیم میں کوئی مارک اپ شامل نہیں، تاہم پروسیسنگ فیس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہو گی۔

مزید پڑھیں: ہونڈا موٹر سائیکلیں مہنگی ہوگئیں، کس ماڈل کی قیمت اب کیا ہے؟

بینک اعلامیہ کے مطابق موٹر سائیکل کی فراہمی اسٹاک کی دستیابی سے مشروط ہو گی جبکہ یہ اسکیم صرف محدود مدت کے لیے مؤثر رہے گی۔

’مزید معلومات یا بکنگ کے لیے صارفین بینک الفلاح کی ہیلپ لائن 021-111-225-111  پر رابطہ کر سکتے ہیں یا [email protected]  پر ای میل بھیج سکتے ہیں۔ فوری معاونت کے لیے واٹس ایپ کیو آر کوڈ بھی دستیاب ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلس بینک الفلاح پروسیسنگ فیس شہباز شریف فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی مارک اپ موٹر سائیکل ہونڈا وزیر اعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اٹلس بینک الفلاح پروسیسنگ فیس شہباز شریف فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی مارک اپ موٹر سائیکل ہونڈا بینک الفلاح سکتے ہیں کے مطابق کی قیمت کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان