واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی دولت مند افراد کے لیے خصوصی اور تیز رفتار امیگریشن اسکیم ’’ٹرمپ گولڈ کارڈ‘‘ باضابطہ طور پر لانچ کر دی ہے، جس کے تحت کم از کم 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 28 کروڑ پاکستانی روپے) کی ادائیگی پر درخواست گزاروں کو امریکا میں تیز ترین مستقل رہائش اور شہریت کا راستہ فراہم کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ یہ کارڈ ’’اہلیت اور مکمل جانچ پڑتال‘‘ کے بعد خریداروں کو براہِ راست شہریت کا راستہ فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق اس اسکیم کا مقصد امریکی کمپنیوں کو اعلیٰ معیار اور قیمتی مہارت رکھنے والا ’’ٹیلنٹ‘‘ رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

گولڈ کارڈ ایک ایسا خصوصی امریکی ویزا ہے جو ان غیر ملکیوں کو جاری کیا جائے گا جو یہ ثابت کریں کہ وہ امریکہ کے لیے ’’بڑا اور نمایاں فائدہ‘‘ فراہم کرسکتے ہیں۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ اسکیم ایسے سرمایہ کاروں اور اعلیٰ پیشہ ورانہ افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو امریکی معیشت میں بڑا مالی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گولڈ کارڈ ہولڈرز کو ’’ریکارڈ مدت‘‘ میں امریکی رہائش فراہم کی جائے گی، جبکہ درخواست دہندہ کو کم از کم 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری یا فیس ادا کرنا ہوگی، جو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ ’’امریکہ کے لیے نمایاں فائدہ‘‘ کا باعث ہے۔

کاروباری ادارے اگر اپنے ملازمین کے لیے یہ کارڈ حاصل کرنا چاہیں تو انہیں 20 لاکھ ڈالر تک کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ’’پلاٹینیم گولڈ کارڈ‘‘ بھی جلد متعارف کرایا جائے گا، جس کی قیمت 50 لاکھ ڈالر ہو گی اور اس میں خصوصی ٹیکس مراعات بھی شامل ہوں گی۔

درخواست جمع کرانے کے بعد ہر فرد کو 15 ہزار ڈالر کی ناقابلِ واپسی پروسیسنگ فیس بھی ادا کرنا ہوگی، جبکہ اضافی فیس ہر درخواست گزار کے حالات کے مطابق الگ سے لی جا سکتی ہے۔

فروری میں پہلی مرتبہ اعلان کے بعد سے ڈیموکریٹس کی جانب سے اس اسکیم پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام امیر طبقے کو غیر منصفانہ طور پر ترجیح دیتا ہے، جبکہ عام تارکینِ وطن پر پابندیاں دن بدن سخت کی جا رہی ہیں۔

ٹرمپ نے اعلان کے وقت گولڈ کارڈ کو گرین کارڈ سے تشبیہ دی تھی، جو مختلف آمدنی رکھنے والے افراد کو امریکہ میں رہائش اور کام کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم گولڈ کارڈ صرف ’’اعلیٰ سطح کے پیشہ ور‘‘ افراد کے لیے مختص ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’ہم ایسے لوگوں کو چاہتے ہیں جو پیداوار اور ملک کے لیے فائدہ مند ہوں‘‘۔ ان کے مطابق 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے والا شخص ’’نوکریاں پیدا کرے گا‘‘ اور یہ اسکیم ’’بہت تیزی سے فروخت ہوگی‘‘۔

یہ اسکیم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن پر سخت ترین کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ورک ویزا فیسوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

امریکا نے 19 ممالک کے شہریوں—زیادہ تر افریقی اور مشرقِ وسطیٰ ممالک—کے امیگریشن کیسز کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ اسی طرح سیاسی پناہ کی تمام نئی درخواستوں کی پروسیسنگ بھی معطل ہے جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور شدہ ہزاروں کیسز کی ازسرِنو جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

ستمبر میں ٹرمپ نے H-1B ویزا کے نئے درخواست گزاروں کے لیے 1 لاکھ ڈالر اضافی فیس عائد کرنے کا حکم بھی دیا، جس سے امریکا میں مقیم بین الاقوامی طالب علموں اور ہائی ٹیک کمپنیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گولڈ کارڈ لاکھ ڈالر کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے