ٹرمپ گولڈ کارڈ حاصل کرنے والے کیا فوائد حاصل کرسکیں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی دولت مند افراد کے لیے خصوصی اور تیز رفتار امیگریشن اسکیم ’’ٹرمپ گولڈ کارڈ‘‘ باضابطہ طور پر لانچ کر دی ہے، جس کے تحت کم از کم 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 28 کروڑ پاکستانی روپے) کی ادائیگی پر درخواست گزاروں کو امریکا میں تیز ترین مستقل رہائش اور شہریت کا راستہ فراہم کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ یہ کارڈ ’’اہلیت اور مکمل جانچ پڑتال‘‘ کے بعد خریداروں کو براہِ راست شہریت کا راستہ فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق اس اسکیم کا مقصد امریکی کمپنیوں کو اعلیٰ معیار اور قیمتی مہارت رکھنے والا ’’ٹیلنٹ‘‘ رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
گولڈ کارڈ ایک ایسا خصوصی امریکی ویزا ہے جو ان غیر ملکیوں کو جاری کیا جائے گا جو یہ ثابت کریں کہ وہ امریکہ کے لیے ’’بڑا اور نمایاں فائدہ‘‘ فراہم کرسکتے ہیں۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ اسکیم ایسے سرمایہ کاروں اور اعلیٰ پیشہ ورانہ افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو امریکی معیشت میں بڑا مالی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گولڈ کارڈ ہولڈرز کو ’’ریکارڈ مدت‘‘ میں امریکی رہائش فراہم کی جائے گی، جبکہ درخواست دہندہ کو کم از کم 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری یا فیس ادا کرنا ہوگی، جو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ ’’امریکہ کے لیے نمایاں فائدہ‘‘ کا باعث ہے۔
کاروباری ادارے اگر اپنے ملازمین کے لیے یہ کارڈ حاصل کرنا چاہیں تو انہیں 20 لاکھ ڈالر تک کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ’’پلاٹینیم گولڈ کارڈ‘‘ بھی جلد متعارف کرایا جائے گا، جس کی قیمت 50 لاکھ ڈالر ہو گی اور اس میں خصوصی ٹیکس مراعات بھی شامل ہوں گی۔
درخواست جمع کرانے کے بعد ہر فرد کو 15 ہزار ڈالر کی ناقابلِ واپسی پروسیسنگ فیس بھی ادا کرنا ہوگی، جبکہ اضافی فیس ہر درخواست گزار کے حالات کے مطابق الگ سے لی جا سکتی ہے۔
فروری میں پہلی مرتبہ اعلان کے بعد سے ڈیموکریٹس کی جانب سے اس اسکیم پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام امیر طبقے کو غیر منصفانہ طور پر ترجیح دیتا ہے، جبکہ عام تارکینِ وطن پر پابندیاں دن بدن سخت کی جا رہی ہیں۔
ٹرمپ نے اعلان کے وقت گولڈ کارڈ کو گرین کارڈ سے تشبیہ دی تھی، جو مختلف آمدنی رکھنے والے افراد کو امریکہ میں رہائش اور کام کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم گولڈ کارڈ صرف ’’اعلیٰ سطح کے پیشہ ور‘‘ افراد کے لیے مختص ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’ہم ایسے لوگوں کو چاہتے ہیں جو پیداوار اور ملک کے لیے فائدہ مند ہوں‘‘۔ ان کے مطابق 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے والا شخص ’’نوکریاں پیدا کرے گا‘‘ اور یہ اسکیم ’’بہت تیزی سے فروخت ہوگی‘‘۔
یہ اسکیم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن پر سخت ترین کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ورک ویزا فیسوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
امریکا نے 19 ممالک کے شہریوں—زیادہ تر افریقی اور مشرقِ وسطیٰ ممالک—کے امیگریشن کیسز کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ اسی طرح سیاسی پناہ کی تمام نئی درخواستوں کی پروسیسنگ بھی معطل ہے جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور شدہ ہزاروں کیسز کی ازسرِنو جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
ستمبر میں ٹرمپ نے H-1B ویزا کے نئے درخواست گزاروں کے لیے 1 لاکھ ڈالر اضافی فیس عائد کرنے کا حکم بھی دیا، جس سے امریکا میں مقیم بین الاقوامی طالب علموں اور ہائی ٹیک کمپنیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گولڈ کارڈ لاکھ ڈالر کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔
12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔
مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟
فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار
فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔
مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔