مدارس جدید چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کررہے ہیں‘ مولانا عبد الوحید
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-9
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) ناظم اعلیٰ جمعیت اتحاد العلما کراچی مولانا عبد الوحید کی زیر صدارت جمعیت اتحا د العلما کراچی کے ذمے داران کا اجلاس جمعرات کو ادارہ نورحق میں منعقد ہوا ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الوحید نے کہا کہ مدارس دینی و عصری علوم سے مکمل ہم آہنگ ہیں اور جدید چیلنجز کا بھر پور مقابلہ کررہے ہیںاور پاکستان کے زمینی اور نظریاتی دفاع کے لیے متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔ اجلاس میں رمضان سے قبل ہونے والی ختم بخاری کی تقاریب کا جائزہ لیا گیا اور بھر پور منصوبہ بندی کی گئی ، ان تقاریب میں ہزاروں کی تعداد میں علما کرام، طلبہ اورعوام الناس کی شرکت ہوگی۔ مزید برآں کراچی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر ٹینکرو ڈمپر مافیا کے سامنے بند باندھنے کا مطالبہ کیا گیا اور حالیہ حادثے میں شہید ہونے والے طالب علم عابد رئیس کی المناک موت پر تشویش کا اظہار کیا گیا، اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ شہید طالب علم سمیت تمام جاں بحق افراد کے قاتلوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ اجلاس میں مولانا محمد نسیم ، مولانا آفتاب ملک ، مولانا یامین منصوری سمیت متعدد علما کرام نے شرکت کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔