جماعت اسلامی کا ڈمپر و ٹینکرز سے اموات کیخلاف کل نمائش چورنگی پر دھرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-26
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں ہیوی ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حادثات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور ظالمانہ ای چالان کے خلاف آئی جی آفس پر عوامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کل بروز ہفتہ 13 دسمبر شام 5 بجے نمائش چورنگی پر زبردست احتجاجی دھرنا اور آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا، کراچی کے ستائے ہوئے عوام بڑی تعداد میں دھرنے میں شریک ہوں اور حق دو کراچی تحریک کا حصہ بنیں۔کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے جائز حقوق کے حصول اورشہر کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور تحریک اور مزاحمت جاری رکھیں گے۔ہم ای چالان کے غیر شفاف اور عوام دشمن نظام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ سندھ حکومت بتائے کہ عمر ایمل ایکٹ کے تحت کتنے زخمیوں کا علاج کرا گیا ہے؟۔ شہر بھر میں جگہ جگہ ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر اور تباہ حال انفرااسٹرکچر عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی نااہلی اور کرپشن کی سزا اہل کراچی بھگت رہے ہیں۔ سندھ حکومت ای چالان کے لیے تو انتہائی سرگرم ہے مگر جرائم کی روک تھام میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، ڈی آئی جی ٹریفک بتائیں کہ شہر میں کتنی سڑکوں پر درست سگنلز اور زیبرا کراسنگ موجود ہیں؟اگر سگنل اور سڑکوں کے مسائل موٹر سائیکل سوار کے چالان سے حل ہونے ہیں تو پھر ٹریفک پولیس کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کی مجرمانہ بے حسی نے کراچی کے عوام کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔فارم 47 کے ذریعے کراچی پر مسلط ایم این ایز وایم پی ایز اور قابض میئر نے بھی عوامی مسائل کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ گزشتہ 11 ماہ میں 41 ہزار موٹر سائیکلیں اور 16 ہزار موبائل فون چھین لیے گئے،مسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں 84 شہری جبکہ ہیوی ٹریفک سے 244افراد اپنی جان گنوابیٹھے۔ یہ کیسی حکمرانی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کھلے عام دندناتے پھریں اور شہریوں پر کیمروں کے ذریعے بھاری جرمانے عاید کیے جائیں؟،سندھ حکومت بتائے کہ ان واقعات میں کتنے مجرم گرفتار کیے گئے؟ڈی آئی جی ٹریفک بار بار اعلان کرتے ہیں کہ ہیوی ٹریفک پر ٹریکرز اور سینسرز نصب کیے جائیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ اب تک ہونے والے 250 سے زاید حادثات میں کتنے ڈمپرز یا ٹینکرز پر یہ نظام موجود تھا؟انہوں نے کہاکہ کراچی میں 40 لاکھ سے زاید موٹرسائیکلیں ہیں ایک طرف سندھ حکومت شہریوں کو ٹرانسپورٹیشن کا نظام دینے میں مکمل ناکام ہے جبکہ دوسری طرف کراچی کے عوام کو خونی ڈمپر، ٹینکر اور ہیوی گاڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔دنیا میں کوئی ایسا شہر نہیں جہاں ڈمپر اور ٹرالر انسانوں کو روند کر فرار ہوجائیں۔ عوامی پریس کانفرنس میں نائب امیر کراچی مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری،پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمدبھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت کراچی کے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔