ٹینکرز سے ہلاکتیں ، سندھ حکومت کی بے حسی کھل کر سامنے آچکی ، ندیم اعوان
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان نے شہر میں ٹینکرز کے ہاتھوں ہونے والی مسلسل ہلاکتوں پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹینکر مافیا کی بے لگامی اور ٹریفک نظام کی بدترین ناکامی نے پورے شہر کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز ٹینکرز شہریوں کی قیمتی جانیں چھین رہے ہیں مگر سندھ حکومت اس سنگین مسئلے کو مکمل طور پر نظر انداز کیے بیٹھی ہے جس سے اس کی بے حسی اور نااہلی واضح ہوچکی ہے۔احمد ندیم اعوان نے کہا کہ اگر سندھ حکومت ای چالان کے نفاذ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور کیمرے لگانے میں سرگرم ہوسکتی ہے تو پھر ٹینکرز مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے میں رکاوٹ کیا ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔