ٹیکس کا پیسہ عوام پر ایمانداری سے خرچ کیا جارہا ہے،ڈاکٹر فواد احمد
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گلشن اقبال ٹاؤن بلاامتیاز خدمت کا مرکز بن چکا ہے جہاں عوام کے بلدیاتی مسائل تیزی سے حل کیے جارہے ہیں،اس سلسلے میں گلشن اقبال بلاک 4 اے میں تقویٰ امام بارگاہ سے قائداعظم کالونی تک سڑک کی ازسر نو تعمیر کا عمل سر انجام دے کر عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد نے دیگر کے ہمراہ جاری کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کوئی کچھ بھی کرتا رہے عوام کے ٹیکسز سے حاصل ہونے والا پیسہ، ایمانداری کے ساتھ ان ہی پر خرچ کیا جارہا ہے جس کے گلشن اقبال ٹاؤن کے عوام خود چشم دید گواہ ہیں۔ مذکورہ سڑک طویل عرصے سے سیوریج مسائل کی وجہ سے تباہ ہوچکی تھی جسے ترجیحی بنیاد پر تعمیر کی جارہا ہے۔ انہوں نے علاقہ مکینوں سے گزارش کی کہ جو ترقیاتی کام سرانجام دیے جارہے ہیں اس کی حفاظت کی ذمہ داری لیں اور سڑک کو کسی کو خراب کرنے نہ دیں۔ ضروری ہے کہ ترقیاتی کاموں کی انجام دہی ہم کریں اور آپ اس سے طویل عرصے مستفید ہونے کیلیے ہمارے دست و بازو اور آنکھیں بنیں۔ اس موقع پر یوسی وائس چیئرمین آصف حسن، ناظمِ علاقہ نبیل احمد، جماعتِ اسلامی کے رہنما حمید آرائیں، عمر مری، عاقل عزیز کے ہمراہ بڑی تعداد میں علاقہ مکین بھی موجود تھے۔ علاقہ مکینوں نے ترقیاتی کاموں کے بروقت اور معیاری کام کی انجام دہی پر چیئرمین گلشنِ اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد اور منتخب نمائندوں کا پرتپاک استقبال کیا اور ان کی جانب سے کام کی انجام دہی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقبال ٹاو ن گلشن اقبال
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔