اسلام آباد حادثہ: ہائیکورٹ جج کی ماورائے عدالت تصفیے کی کوششیں، صحافی اسد ملک کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سینیئر صحافی و کورٹ رپورٹر اسد ملک کا کہنا ہے کہ گاڑی کی ٹکر سے 2 اسکوٹی سوار لڑکیوں کی ہلاکت کے ’ذمے دار‘ لڑکے کے جج والد معاملے کے ماورائے عدالت تصفیے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد حادثہ، جج کے کم عمر بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے 2 جوان لڑکیاں جاں بحق
یاد رہے کہ اسلام آباد میں اسکوٹی پر سوار 2 لڑکیوں کو وی ایٹ گاڑی سے کچلنے کا واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب (2 دسمبر) پیش آیا تھا۔ اس حادثے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج محمد آصف کا 16 سالہ بیٹا ابوذر مبینہ طور پر ملوث ہے جو گاڑی انتہائی تیز رفتاری سے چلا رہا تھا اور اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا۔
سینیئر صحافی اسد ملک نے وی ایکسکلیسیو میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کی شکار دونوں لڑکیاں دن میں کورس کرتی تھیں اور ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی کرتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ حادثے سے قبل لڑکیوں نے کھنہ پل کے قریب کچھ ہلکا پھلکا کھایا اور ایک لڑکی اپنی سہیلی کے پاس ایک آدھ دن رہنے اس کے گھر جا رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ گھر والوں نے لڑکی کو فون کیا تو ایک پولیس اہلکار نے انہیں حادثے کی اطلاع دی اور پمز اسپتال پہنچنے کے لیے کہا۔
مزید پڑھیے: اسکوٹی پر سوار لڑکیوں کو کچلنے کا واقعہ، جج کے بیٹے کا جسمانی ریمانڈ منظور
اسد ملک کے مطابق جج کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ واقعے کے وقت جج صاحب سو رہے تھے اور ان کا بیٹا گاڑی لے کر باہر چلا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ہائیکورٹ کے جج کو صبح ساڑھے 8 بجے عدالت پہنچنا ہوتا ہے اس لیے وہ عام طور پر جلدی سوتے ہیں۔
قانونی پہلو اور گرفتاریاں
اسد ملک نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی کئی افواہوں کے برخلاف ملزم کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس کیس میں قتل کی دفعہ نہیں بلکہ سیکشن 322 (قتل بالسبب) لاگو ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جان لینے کا ارادہ نہیں تھا مگر غفلت سے جان چلی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ عام طور پر یہ قابل ضمانت جرم ہے لیکن چونکہ ملزم نابالغ ہے اور اس کے پاس لائسنس نہیں تھا اس لیے کیس ناقابل ضمانت بن گیا۔
مزید پڑھیں: کم عمر بچے کی گاڑی چلاتے پرانی ویڈیو وائرل، ’کیا یہ وہی ابوذر ہے جس کی گاڑی سے 2 لڑکیاں جاں بحق ہوئیں؟‘
پولیس نے ملزم کا 4 روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے تاکہ اس کا موبائل فون برآمد کیا جاسکے جس سے کچھ تفصیل پتا چل سکے۔ ان کے مطابق کیا حادثے سے کچھ دیر قبل اس نے اسنیپ چیٹ پر ایک ویڈیو بھی اپ لوڈ کی تھی۔
سیف سٹی فوٹیج اور مصالحت کی کوششیںاسد ملک نے مزید بتایا کہ تاحال سیف سٹی کی کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی حالانکہ جائے وقوعہ پر کیمرے موجود ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ یہ قتل عمد نہیں ہے اس لیے عمر قید یا موت کی سزا کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیس کمپاؤنڈیبل ہے اگر متاثرہ خاندان صلح نہ کرے تو معاملہ ٹرائل تک جائے گا لیکن میرا اندازہ ہے کہ آخر میں دیت ادا ہوگی اور ضمانت بھی ہو جائے گی۔
دوستوں کی موجودگی اور موبائل فون غائب ہونے کا معاملہسوشل میڈیا پر یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ گاڑی میں ملزم کے دوست بھی موجود تھے جنہیں بھگا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: پھسل کر گرنے سے ڈمپر کی زد میں آکر خاتون اسکوٹی سوار جاں بحق
اسد ملک کے مطابق یہ بات موبائل فون ملنے کی صورت میں ثابت ہو سکتی تھی لیکن موبائل فون فی الحال غائب ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکوٹی سوار لڑکیوں کی ہلاکت جج کا بیٹا جج کے بیٹے کا جرم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جج کا بیٹا جج کے بیٹے کا جرم موبائل فون اسلام آباد انہوں نے بتایا کہ اسد ملک
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔