کسانوں کے اعداد و شمار میں تضادات پر تشویش ہے‘سردارعبدالرحیم
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے میڈیا رپورٹ پر چلنی والی 58 ارب روپے کے گندم سبسڈی پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے فی ایکڑ 22 ہزار روپے امداد دینے کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ لاکھوں کسان اس سے مستفید ہوں گے، مگر ایک لاکھ سے زائد کسان سبسڈی سے محروم رہے۔ انہوں نے اس اسکیم کو بدانتظامی اور جانبداری کی مثال قرار دیا۔سردار عبدالرحیم نے سرکاری ریکارڈ میں رجسٹرڈ، تصدیق شدہ اور ادائیگی حاصل کرنے والے کسانوں کے اعداد و شمار میں تضادات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ہزاروں ٹرانزیکشنز کی واپسی، بڑی تعداد میں کسانوں کے ڈیٹا کی گمشدگی اور 18 ارب روپے سے زائد رقم کا خرچ نہ ہونا شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ چھوٹے اور غریب کاشتکاروں کو نظرانداز کیا گیا جبکہ بااثر افراد کو فائدہ پہنچایا گیا، جس سے دیہی معیشت کو نقصان پہنچا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ