سینیٹ، ریاست اور قومی ہیروز کیخلاف ہرزہ سرائی پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست اور قومی ہیروز کے خلاف ایوان میں ہرزہ سرائی پر پابندی عائد کردی ، اپوزیشن ارکان کو ریاستی اداروں اور قومی ہیروز کے خلاف بات کرنے پر رکنیت کی معطلی سمیت سخت کارروائی کا پیغام بھی دے دیا۔
ایوان کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سیدال خان نے دوسری رولنگ میں کہا کہ ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ دارئ ہے۔ مٹھی بھر عناصر ایوان کو یرغمال نہیں بنا سکتے ، ایوان کا تقدس پامال کرنے والوں کو معطل کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کچھ اپوزیشن ارکان مسلسل کارروائی میں رکاوٹ ڈال کر ریاستی اداروں اور قومی ہیروز کی توہین کر رہے ہیں، مگر اب یہ سلسلہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی چیئرمین نے اعلان کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت انیس سو تہتر کے آئین پر دستخط کرنے والے تمام شخصیات قومی ہیروز ہیں۔ ان کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے دوران سیدال خان ناصر نے دوبارہ سخت لہجے میں رولنگ دہرائی کہ اداروں اور ملک کے خلاف اب ایک لفظ بھی برداشت نہیں ہوگا۔ میری یہ رولنگ قائم رہے گی اور اسی کے مطابق ایوان چلے گا۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران سینیٹ اجلاس جمعہ صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان