اسلام آباد(نیوزڈیسک) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست اور قومی ہیروز کے خلاف ایوان میں ہرزہ سرائی پر پابندی عائد کردی ، اپوزیشن ارکان کو ریاستی اداروں اور قومی ہیروز کے خلاف بات کرنے پر رکنیت کی معطلی سمیت سخت کارروائی کا پیغام بھی دے دیا۔

ایوان کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سیدال خان نے دوسری رولنگ میں کہا کہ ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ دارئ ہے۔ مٹھی بھر عناصر ایوان کو یرغمال نہیں بنا سکتے ، ایوان کا تقدس پامال کرنے والوں کو معطل کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کچھ اپوزیشن ارکان مسلسل کارروائی میں رکاوٹ ڈال کر ریاستی اداروں اور قومی ہیروز کی توہین کر رہے ہیں، مگر اب یہ سلسلہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی چیئرمین نے اعلان کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت انیس سو تہتر کے آئین پر دستخط کرنے والے تمام شخصیات قومی ہیروز ہیں۔ ان کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے دوران سیدال خان ناصر نے دوبارہ سخت لہجے میں رولنگ دہرائی کہ اداروں اور ملک کے خلاف اب ایک لفظ بھی برداشت نہیں ہوگا۔ میری یہ رولنگ قائم رہے گی اور اسی کے مطابق ایوان چلے گا۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران سینیٹ اجلاس جمعہ صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد