لاہور:(نیوز ڈیسک)ریلوے ویجلنس نے انکوائری رپورٹ میں بجلی کے بلوں کی مد میں کروڑوں روپے کی بوگس ادائیگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ایکسپریس نیوز نے ریلوے ویجلنس کی بوگس بلنگ سے متعلق انکوائری رپورٹ حاصل کر لی، ڈی جی ویجلنس نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے چیف ایگزیکٹو ریلوے کو ارسال کردی۔

انکوائری رپورٹ میں 11 کروڑ سے زائد کی بوگس ادائیگیوں کی نشان دہی کردی گئی ہے، ریلوے کی تین رہائشی کالونیوں کا بجلی اور بلنگ کا مکمل انتظام 2023 میں لیسکو کے سپرد کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیسکو نے رہائشی کالونیوں میں بجلی کے میٹرز لگائے اور بلنگ بھی شروع کی، الگ الگ بلنگ کے باوجود لیسکو نے اجتماعی طور پر ریلوے کو بھی بل بھجوائے اور مجموعی طور پر لیسکو نے 11 کروڑ سے زائد کی بوگس بلنگ کی۔

ویجلنس کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ریلوے ورکشاپس ڈویژن کے شعبہ الیکٹرک کی جانب سے یہ تمام ادائیگیاں بغیر کسی انویسٹی گیشن کے لیسکو کو کر دی گئیں، ڈویژنل الیکٹریکل انجینئر ورکس اور دیگر الیکٹرک افسران کی غفلت اور لاپرواہی سے ریلوے کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ انکوائری میں غفلت برتنے والے افسران ڈویژنل الیکٹریکل انجینئر ورکس، ایس ای ای ورکشاپس اور وائرمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارشات کر دی ہیں جبکہ مذکورہ افسران 7 سال سے ایک ہی سیٹ پر براجمان ہیں۔

ریلوے ویجلنس نے کہا ہے کہ ریلوے میں روٹیشن پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف