Jasarat News:
2026-07-24@00:54:21 GMT

فلسطینی نژاد امریکی بچہ 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزاد

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی نژاد امریکی بچے محمد ابراہیم کو 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزادی مل گئی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق صرف 15 برس کی عمر میں گرفتار ہونے والا یہ بچہ اپنی 16 ویں سالگرہ بھی اسرائیلی کوٹھڑی کی تاریکی میں قید تنہائی کے سائے میں گزارنے پر مجبور ہوا تھا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق محمد ابراہیم کو رواں برس فروری میں اس وقت اٹھا لیا گیا جب وہ اپنے والدین کے ہمراہ امریکا سے اپنے آبائی قصبے المزعرہ الشرقیہ آیا تھا۔ خاندان کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے گھر پر چھاپے کے دوران نہ صرف اسے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر والدین کے سامنے زبردستی گرفتار کر کے لے گئے۔

بعد ازاں دورانِ حراست اسے ذہنی اور جسمانی طور پر بدترین اذیتیں دی گئیں۔ والدین نے بتایا کہ مسلسل ظلم کے باعث اس کا وزن کم ہوتا گیا، وہ نقاہت اور کمزوری کا شکار ہوگیا اور جلد کی ایک شدید بیماری میں مبتلا ہوگیا جس نے اسے بالکل نڈھال کر دیا۔

اس تمام عرصے میں خاندان کو نہ تو ملاقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اپنے بچے سے براہِ راست کوئی رابطہ کرنے دیا گیا۔ اہل خانہ صرف امریکی حکام کے ذریعے ہی یہ جان پاتے تھے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں اور اس کی حالت کیسی ہے۔ امریکی اداروں کی رپورٹس کے مطابق محمد ابراہیم کی حالت روز بروز بگڑتی گئی، جس کے بعد معاملہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہونا شروع ہوا۔

اسرائیلی حکام نے گرفتاری کے بعد یہ کمزور مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی کہ محمد ابراہیم نے یہودی آبادکاروں پر پتھر پھینکے تھے، تاہم نہ تو کوئی زخمی سامنے آیا اور نہ اسرائیلی پولیس ایک بھی ثبوت فراہم کر سکی۔ خود محمد ابراہیم نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی کہانی ہے جس کا مقصد اسے نشانہ بنانا ہے۔

بعد ازاں امریکا میں شہری حقوق کی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور متعدد قانون سازوں نے مل کر اس معصوم لڑکے کی رہائی کے لیے مہم تیز کی۔ گزشتہ ماہ 27 امریکی ارکانِ کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر اس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محمد ابراہیم کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے

سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔

دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع