Jasarat News:
2026-06-02@22:37:10 GMT

فلسطینی نژاد امریکی بچہ 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزاد

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی نژاد امریکی بچے محمد ابراہیم کو 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزادی مل گئی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق صرف 15 برس کی عمر میں گرفتار ہونے والا یہ بچہ اپنی 16 ویں سالگرہ بھی اسرائیلی کوٹھڑی کی تاریکی میں قید تنہائی کے سائے میں گزارنے پر مجبور ہوا تھا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق محمد ابراہیم کو رواں برس فروری میں اس وقت اٹھا لیا گیا جب وہ اپنے والدین کے ہمراہ امریکا سے اپنے آبائی قصبے المزعرہ الشرقیہ آیا تھا۔ خاندان کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے گھر پر چھاپے کے دوران نہ صرف اسے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر والدین کے سامنے زبردستی گرفتار کر کے لے گئے۔

بعد ازاں دورانِ حراست اسے ذہنی اور جسمانی طور پر بدترین اذیتیں دی گئیں۔ والدین نے بتایا کہ مسلسل ظلم کے باعث اس کا وزن کم ہوتا گیا، وہ نقاہت اور کمزوری کا شکار ہوگیا اور جلد کی ایک شدید بیماری میں مبتلا ہوگیا جس نے اسے بالکل نڈھال کر دیا۔

اس تمام عرصے میں خاندان کو نہ تو ملاقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اپنے بچے سے براہِ راست کوئی رابطہ کرنے دیا گیا۔ اہل خانہ صرف امریکی حکام کے ذریعے ہی یہ جان پاتے تھے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں اور اس کی حالت کیسی ہے۔ امریکی اداروں کی رپورٹس کے مطابق محمد ابراہیم کی حالت روز بروز بگڑتی گئی، جس کے بعد معاملہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہونا شروع ہوا۔

اسرائیلی حکام نے گرفتاری کے بعد یہ کمزور مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی کہ محمد ابراہیم نے یہودی آبادکاروں پر پتھر پھینکے تھے، تاہم نہ تو کوئی زخمی سامنے آیا اور نہ اسرائیلی پولیس ایک بھی ثبوت فراہم کر سکی۔ خود محمد ابراہیم نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی کہانی ہے جس کا مقصد اسے نشانہ بنانا ہے۔

بعد ازاں امریکا میں شہری حقوق کی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور متعدد قانون سازوں نے مل کر اس معصوم لڑکے کی رہائی کے لیے مہم تیز کی۔ گزشتہ ماہ 27 امریکی ارکانِ کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر اس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محمد ابراہیم کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان