یورپی یونین میٹا کے خلاف انکوائری کی تیاری کیوں کررہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
یورپی یونین کی جانب سے میٹا پلیٹ فارمز کے خلاف نئی اینٹی ٹرسٹ انکوائری شروع کرنے کی تیاری جاری ہے۔
یورپی یونین کا تحقیقاتی کمیشن واٹس ایپ میں مصنوعی ذہانت کے فیچرز کے انضمام کا جائزہ لے گا، اس پیش رفت سے بڑے ٹیک اداروں کی اے آئی سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی نگرانی واضح ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نازیبا گفتگو کرنے پر میٹا کا ’بے قابو‘ اے آئی چیٹ بوٹ زیرعتاب، انکوائری جاری
کمیشن رواں برس میٹا کی جانب سے واٹس ایپ میں میٹا اے آئی کے استعمال سے متعلق تحقیقات شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، میٹا اے آئی، جو چیٹ بوٹ اور ورچوئل اسسٹنٹ پر مشتمل ہے، مارچ 2025 سے یورپی یونین کی مارکیٹس میں واٹس ایپ کے اندر شامل کیا جارہا ہے۔
میٹا کے مطابق کمپنی کو نئی انکوائری کے حوالے سے کوئی معلومات موصول نہیں ہوئیں، جبکہ اس نے اٹلی میں جاری سابقہ تحقیقات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اٹلی کے اینٹی ٹرسٹ ریگولیٹر نے جولائی میں تحقیقات شروع کی تھیں کہ آیا میٹا نے اپنی مارکیٹ پاور کا استعمال کرتے ہوئے اے آئی ٹول کو واٹس ایپ میں ضم کر کے مسابقت محدود کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے اے آئی چیٹ بوٹس پر بچوں کیساتھ فلرٹ اور خودکشی سے متعلق گفتگو پر پابندی لگا دی
نومبر میں یہ تحقیقات مزید وسیع کر دی گئی تھیں تاکہ اس الزام کا جائزہ لیا جا سکے کہ میٹا نے حریف اے آئی چیٹ بوٹس کو پلیٹ فارم پر رسائی سے روکا ہے۔
یورپی کمیشن آئندہ چند دنوں میں تحقیقات کے آغاز کا اعلان کرسکتا ہے، تاہم تاریخ میں تبدیلی بھی ممکن ہے، یہ انکوائری روایتی اینٹی ٹرسٹ قوانین کے تحت کی جائے گی، ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت نہیں، جسے اس وقت ایمیزون اور مائیکروسافٹ کی کلاوڈ سروسز کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
یورپی کمیشن نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اینٹی ٹرسٹ انکوائری میٹا یورپی یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینٹی ٹرسٹ انکوائری میٹا یورپی یونین یورپی یونین اینٹی ٹرسٹ واٹس ایپ اے آئی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔