اسلام آباد میں ایک اور تیز رفتار لینڈ کروزرز کو ہولناک حادثہ، شہریوں میں خوف اور غم و غصہ بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد کے حساس ترین مقام سیکریٹریٹ چوک میں تیز رفتار لینڈ کروزر کی ٹکر سے ایک اور ہولناک حادثہ پیش آیا ہے، حادثے کے بعد شہری خوفزدہ ہوگئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق سفید رنگ کی لینڈ کروزر اچانک بے قابو ہوئی اور سامنے کھڑی گاڑی سے جا ٹکرائی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو سیل کردیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
مسلسل حادثات نے دارالحکومت کے شہریوں میں خوف اور غم و غصہ بڑھا دیاگزشتہ چند روز سے لینڈ کروزرز کی تیز رفتاری اور قانون شکنی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے 16 سالہ بیٹے کی مبینہ تیز رفتاری کے نتیجے میں ہونے والا حادثہ 2 نوجوان لڑکیوں کی جان لے گیا تھا۔ اس دلخراش واقعے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
اسی طرح ن لیگی سینیٹر ناصر بٹ کے ڈرائیور کی جانب سے تیز رفتار لینڈ کروزر سے 2 موٹرسائیکل سواروں کو کچلنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ واقعے میں دونوں موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے گاڑی سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا تھا۔
شہریوں کا ردعملمسلسل پیش آنے والے واقعات نے شہریوں کو سخت بے چین کردیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی سڑکیں طاقتور طبقے کی تیز رفتاری کے باعث غیر محفوظ ہوچکی ہیں اور قانون کی گرفت کمزور دکھائی دے رہی ہے۔
پولیس کی کارروائیپولیس نے سیکریٹریٹ چوک میں ہونے والے تازہ حادثے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ گاڑی اور ڈرائیور کا مکمل ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی طلب کر لی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد ٹریفک حادثہ لینڈ کروزر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد ٹریفک حادثہ لینڈ کروزر لینڈ کروزر
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔