خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پشاور: ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کی پیشگوئی کر دی گئی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں آج اور کل بارش متوقع ہے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں 4 اور 5 دسمبر کو وقفے وقفے سے بارش اور بالائی علاقوں میں بارفباری کا امکان ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی۔جاری کردہ الرٹ کے مطابق دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، مانسہرہ، ایبٹ آباد سمیت بالائی علاقوں میں بارش و بارفباری متوقع ہے۔ پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، خیبر، کرم، بنوں، ڈی آئی خان سمیت کئی اضلاع میں بارش ہو سکتی ہے۔ جبکہ پہاڑی علاقوں میں سڑکوں پر پھسلن کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بارش سے کمزور گھروں، بجلی کے کھمبوں، اشتہاری بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو نکاسی آب کی صفائی اور عوام و سیاحوں کو بروقت آگاہی دینے کی ہدایت کر دی گئی۔رپورٹ کے مطابق، بلیک باکس سے حاصل کردہ ڈیٹا میں واضح ہوا ہے کہ کاک پٹ میں موجود کسی فرد نے انجن کے فیول سپلائی سسٹم کے سوئچز خود بند کیے۔ڈیٹا سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ انجن بند ہونے کے بعد نیچے جاتے طیارے کو اوپر اٹھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، اور طیارہ چند سیکنڈ بعد زمین سے ٹکرا گیا۔
خیال رہے کہ 12 جون 2025 کو پیش آئے اس حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ زمین پر موجود 19 افراد بھی جان سے گئے تھے۔ واقعے کا واحد زندہ بچ جانے والا مسافر تاحال زیرِ علاج ہے۔امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ بھارت اس واقعے کو پائلٹ کی غلطی قرار دینے سے گریز کرے گا اور اس کی وجہ طیارے میں ممکنہ فنی خرابی کو بتایا جائے گا۔
دوسری جانب بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا خود امریکی ساختہ طیاروں میں پائے جانے والے ممکنہ نقائص کو نظرانداز کر رہا ہے، حالانکہ بوئنگ ڈریم لائنر پہلے کبھی کسی مہلک حادثے کا شکار نہیں ہوا۔اسی دوران نومبر میں بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ کپتان سُمیت سبروال حادثے کے ذمہ دار نہیں تھے۔ سبروال کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے 30 سالہ کیریئر کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی اہلکاروں نے الزام لگایا ہے کہ انہیں طیارے کے ملبے کی تصاویر لینے نہیں دی گئیں اور کچھ شواہد ان کی آمد سے پہلے ہی منتقل کر دیے گئے تھے۔ مزید یہ کہ بھارت نے بلیک باکس کے مکمل تجزیے تک رسائی بھی محدود رکھی۔جون میں دہلی پہنچنے والے دو امریکی ماہرین کو خبردار کیا گیا کہ وہ بھارتی حکام کے ساتھ دور افتادہ لیبارٹری میں ملبے کے تجزیے کے لیے نہ جائیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بارش سے کمزور گھروں، بجلی کے کھمبوں، اشتہاری بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو نکاسی آب کی صفائی اور عوام و سیاحوں کو بروقت آگاہی دینے کی ہدایت کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علاقوں میں کے مطابق
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔