data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لبنان اور اسرائیل کے درمیان سویلین سطح پر کئی دہائیوں کی کشیدگی  کے بعد پہلی بار آمنے سامنے بیٹھ کر براہِ راست بات چیت ہوئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے اس ملاقات کو تاریخی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب  مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں پر جاری مظالم اور اسرائیلی جارحیت کے پس منظر میں یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق یہ ملاقات اقوامِ متحدہ کی امن فورس کے مرکزی دفتر ناقورہ میں ہوئی، جہاں 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ برسوں سے دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ صرف فوجی افسران تک محدود تھا، تاہم اس بار پہلی مرتبہ سویلین نمائندوں کو شامل کرنا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ فریقین اندرونی سطح پر کسی نئے سفارتی راستے پر غور کر رہے ہیں، جس سے مستقبل میں کشیدگی کم کرنے یا کسی نئے فریم ورک تک پہنچنے کی کوششیں جنم لے سکتی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی ترجمان شوش بدرسیان کے مطابق اس ملاقات کو ’’لبنان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اور معاشی تعاون کی راہ ہموار کرنے کی ابتدائی کوشش‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دے رہا ہے، تاہم خطے کے حالات، خاص طور پر غزہ اور فلسطین پر جاری اسرائیلی حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال اس تمام بیانیے پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک اسرائیل ایسے رابطوں کو اپنے بین الاقوامی تاثر کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اس کی پالیسیوں میں کوئی نرمی نظر نہیں آتی۔

امریکی سفارتخانے نے بھی اس ملاقات میں اپنی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن طویل عرصے سے لبنان پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں امریکا کے کردار پر بھی سوالات موجود ہیں کیونکہ خطے میں اس کے اسٹریٹجک مفادات اکثر حقیقت پسندانہ امن کے برعکس ہوتے ہیں۔

اُدھر لبنان کے صدر جوزف عون کے دفتر کے مطابق لبنان کی جانب سے سابق سفیر سیمون کرم نے مذاکرات میں نمائندگی کی جب کہ اسرائیل نے بھی اپنی جانب سے ایک غیر فوجی رکن کو شامل کیا۔ لبنان نے مستقبل کے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اسرائیل کے مطابق

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار