اسرائیل کا ایک وفد لبنان جائیگا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اپنی ایک رپورٹ میں صیہونی ٹی وی چینل 14 کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور "حزب الله" کے درمیان تنازعے کے معاملے پر مصر نے غیر متوقع طور پر مداخلت کی تاکہ لبنان میں بڑے پیمانے پر تصادم کو روکا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی وزارت عظمیٰ کے دفتر نے اعلان کیا کہ وزیراعظم "بنجمن نیتن یاہو" نے ایک وفد کو لبنان کا دورہ کرنے اور وہاں کے سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کرنے کی ذمے داری سونپی ہے۔ وفد میں اسرائیلی داخلی سلامتی کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے جو اس دوران لبنان کے سرکاری اور اقتصادی عہدیداروں سے ملاقاتیں و مشاورتیں کرے گا۔ مذكورہ دفتر نے اعلان کیا کہ یہ اقدام دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو تشکیل دینے اور مضبوط بنانے کے سلسلے میں انجام دیا گیا۔ قبل ازیں، اسرائیلی ٹی وی چینل 14 نے رپورٹ دی کہ اسرائیل اور "حزب الله" کے درمیان تنازعے کے معاملے پر مصر نے غیر متوقع طور پر مداخلت کی تاکہ لبنان کو وسیع پیمانے پر تصادم سے روکا جا سکے۔ چینل 14 نے مزید کہا کہ حزب الله، اسرائیل کی نیت پر شک کے ساتھ ساتھ ثالثوں کی کوششوں کو بھی مسترد کر چکی ہے۔ ذرائع ابلاغ كا کہنا ہے کہ ثالثی كی یہ تازہ كوشش اس وقت ہو رہی ہے جب شمالی اسرائیل (فلسطین کے مقبوضہ علاقوں) کی سرحدوں پر صورت حال انتہائی خوفناک ہو چکی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی نیوز نیٹ ورک نے بتایا کہ حزب الله نے اسرائیل پر عدم اعتماد اور لبنانی حکومت کو نظرانداز کرنے کے بہانے ثالثی کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ حزب الله کا موقف ہے کہ کوئی بھی بات چیت، لبنانی حکومت کے ذریعے ہونی چاہئے۔ جس پر اسرائیلی ٹی وی چینل 14 نے کہا کہ مصر ایسے معاملات میں شاذ و نادر ہی مداخلت کرتا ہے۔ اس لئے اس بحران میں مصر کی مداخلت، خطے میں بڑھتے ہوئے خطرے کی علامت ہے۔ اسی سلسلے میں، لبنانی اخبار "الاخبار" نے لکھا کہ مصر کے وزیر خارجہ "بدر عبدالعاطی" نے اپنے حالیہ دورہ بیروت کے دوران خبردار کیا کہ موجودہ عیسوی سال کے اختتام سے قبل، اسرائیلی حملہ یقینی ہے اور یہ ہو کر رہے گا۔ انہوں نے لبنان میں حزب الله کے ساتھ معاملے کا عملی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ دریائے لیطانیہ کے جنوب میں حزب الله کے ہتھیاروں میں واضح کمی کے باوجود، صیہونی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ ہے کہ لبنانی حکومت کے پاس حزب الله کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کافی صلاحیت موجود نہیں، جس نے بحران کو اور پیچیدہ بنا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چینل 14
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔