ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لئے بڑی خبر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
لاہور : آن لائن ڈرائیونگ لائسنس سسٹم کریش کرگیا . جس سے شہریوں کو درخواستیں جمع کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کی آن لائن ڈرائیونگ لائسنس سسٹم میں اچانک خرابی کے بعد شہری نئے لائسنس کے لیے درخواست یا موجودہ لائسنس کی تجدید نہیں کر سکے. جس سے شہریوں میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ذرائع نے بتایا کہ DLIMS پورٹل مکمل طور پر غیر فعال ہوگیا اور صارفین کو کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ سسٹم کیوں کریش ہوا۔سسٹم بند ہونے کی وجہ سے نئے لائسنس کی درخواستیں، تجدید، ای-لائسنس ڈاؤن لوڈ اور آن لائن اپلیکیشن ٹریکنگ تمام خدمات متاثر ہو گئیں۔یہ تعطل ان افراد کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کا باعث بنا جو فوری طور پر لائسنس چاہتے تھے.
DLIMS کو جدید حکمرانی میں شفاف، کاغذی کارروائی سے پاک اور وقت بچانے والا نظام قرار دیا گیا تھا، جو کم لائنیں، تیز منظوری اور ہموار ورک فلو فراہم کرتا تھا۔چند گھنٹوں کے بعد سسٹم دوبارہ فعال ہوا اور صارفین کو دوبارہ رسائی مل گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔