وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کم عمر بچوں کو سمارٹ کارڈ، موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجراکا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کم عمر بچوں کو سمارٹ کارڈ، موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجراکا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 2 December, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم عمر طلبہ کوگرفتار کرنے سے روک دیا۔مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں 16سال کے بچوں کو سمارٹ کارڈ اور موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا ہے، ہیلمٹ نہ پہننے پر پہلی خلاف ورزی کی صورت میں وارننگ چالان ہوگا۔
پنجاب بھر میں ٹریفک پولیس کو عوام بالخصوص طلبہ کے لیے ہفتہ آگاہی منایا جائے گا جبکہ ٹریفک کے لیے پہلی مرتبہ ڈرون اور باڈی کیم کا استعمال شروع کردیا گیا ہے۔وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ کم عمر طلبہ یا بچوں سے زیادہ والدین کو ٹریفک قوانین سے متعلق کردار ادا کرنا چاہیے، ٹریفک قوانین عوام کی جان کی حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں، عوام کو اپنی حفاظت کے لیے عادتوں کو بدلنا ہوگا، ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ہر شہری اپنا کردار ادا کرے۔مریم نواز نے کہا کہ معصوم بچوں کو نہیں پکڑنا چاہتے مگر قانون کی پاسداری ضروری ہے، بچوں کا قصور نہیں، ہم نے انہیں ہیلمٹ پہننے کی عادت ہی نہیں ڈالی، والدین بچوں کو روڈ سیفٹی کے لیے ہیلمٹ کی اہمیت اور ضرورت سے آگاہ کریں۔
وزیر اعلی پنجاب نے ٹریفک پولیس کو ہدایت کی کہ ٹریفک پولیس عوام کی عزت نفس کا خصوصی خیال رکھے اور بداخلاقی اور بدتمیزی نہ کی جائے۔اس سے قبل چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کم عمرڈرائیورز کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہارکیا تھا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پرکم عمرافراد کوگرفتارکرنے سے روک دیا تھا۔قبل ازیں جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کم عمر ڈرائیورز سے متعلق پہلے آگاہی مہم چلائی جائے اور پہلے کم عمرموٹر سائیکل اورکار چلانے والے بچوں کو وارننگ دی جائے، غلطی دہرانے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربرآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، وزیراعظم برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، وزیراعظم پی ٹی آئی کا صوابی انٹرچینج پراحتجاج، موٹروے بند کردی عمران خان سے ملاقات بہنوں کا حق تھا جو مل گیا، جیل میں سیاسی ملاقاتیں ممکن نہیں ہیں، فیصل واوڈا سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں 2کارروائیاں، 7خوارج جہنم واصل عمران خان کی صحت الحمدللہ ٹھیک ہے ،بہن کی ملاقات کے بعد گفتگو ،بانی پر ذہنی ٹارچر کا الزام سی ڈی اے کا بڑا فیصلہ ،35افسران کو پہلے ایچ آر ڈی رپورٹ کا حکم دیا گیا ، اب گاڑیاں بھی واپس جمع کروانے...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔