data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کم عمر طلبہ کو گرفتار کرنے سے روک دیا اور بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بھی آئی جی پنجاب کو کم عمر ڈرائیور بچوں کو گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ کم عمر ڈرائیور بچوں سے متعلق پہلے آگاہی مہم چلائی جائے، پہلی مرتبہ کم عمر ڈرائیور بچوں کو وارننگ اور غلطی دہرانے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پنجاب میں 16سال کے بچوں کو اسمارٹ کارڈ اور موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا ہے جب کہ ہیلمٹ نہ پہننے پر پہلی خلاف ورزی کی صورت میں وارننگ چالان ہوگا۔پنجاب بھر میں ٹریفک پولیس کو عوام بالخصوص طلبہ کے لیے ہفتہ آگاہی منایا جائے گا جب کہ ٹریفک کے لیے پہلی مرتبہ ڈرون اور باڈی کیم کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کم عمر طلبہ یا بچوں سے زیادہ والدین کو ٹریفک قوانین سے متعلق بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، ٹریفک قوانین عوام کی جان کی حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ عوام کو اپنی حفاظت کے لئے عادتوں کو بدلنا ہوگا، ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ہر شہری اپنا کردار ادا کرے۔

ادھر لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو کم عمر ڈرائیور بچوں کو فوری گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔منگل کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کم عمر بچوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کرنے کا نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ کم عمر ڈرائیور بچوں سے متعلق پہلے آگاہی مہم چلائی جائے جب کہ پہلی مرتبہ کم عمر موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے والے بچوں کو وارننگ دی جائے، غلطی دہرانے پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔

واضح رہےکہ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو آج میٹنگ کے لیے چیمبر میں بلایا تھا جس پر آئی جی پنجاب آج لاہور ہائیکورٹ آئے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کم عمر ڈرائیور بچوں لاہور ہائیکورٹ گرفتار کرنے سے ٹریفک قوانین چیف جسٹس بچوں کو کے لیے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور