مریم نواز نے ٹریفک قوانین خلاف ورزی پر طلبہ کی گرفتار سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
لاہور(نیوزڈیسک) کمسن طلبہ یابچوں سے زیادہ والدین کوٹریفک قوانین سےمتعلق بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں مریم نواز کا کہنا ہے کہ سولہ سال کے بچوں کو اسمارٹ کارڈ اور موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں ٹریفک پولیس کو عوام بالخصوص طلبہ کے لئے ہفتہ آگاہی منایا جائے گا ۔ ہیلمٹ نہ پہننے پر پہلی خلاف ورزی کی صورت میں وارننگ چالان ہوگا ۔ ٹریفک کے لئے پہلی مرتبہ ڈرون اور باڈی کیم کا استعمال شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ کم عمر طلبہ یا بچوں سے زیادہ والدین کو ٹریفک قوانین سے متعلق بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے ۔ ٹریفک قوانین عوام کی جان کی حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔عوام کو اپنی حفاظت کے لئے عادتوں کو بدلنا ہوگا ۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے ہر شہری اپنا کردار ادا کرے ۔ معصوم بچوں کو نہیں پکڑنا چاہتے مگر قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ بچوں کا قصور نہیں ہم نے انہیں ہیلمٹ پہننے کی عادت ہی نہیں ڈالی ۔ والدین بچوں کو روڈ سیفٹی کے لئے ہیلمٹ کی اہمیت اور ضرورت سے آگاہ کریں ۔ ٹریفک پولیس عوام کی عزت نفس کا خصوصی خیال رکھے ۔ بداخلاقی اور بدتمیزی نہ کی جائے ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر دو ہزار چار سو پینتالیس پولیس گاڑ یاں قانون کی زد میں آ گئیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین خلاف ورزی بچوں کو کے لئے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔