Juraat:
2026-07-24@04:10:25 GMT

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

ریاض احمدچودھری

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور گھروں پر چھاپوں کے دوران جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں خواتین اور ڈاکٹروں سمیت کم از کم 1500 کشمیریوں کو حراست میں لیا۔بھارتی فوج، پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں اور دیگر ایجنسیوں نے گزشتہ تین دنوں کے دوران محاصرے اور تلاشی کی سب سے بڑی کارروائی میں وادی کشمیر میں پوچھ گچھ کے لیے گرفتاریاں کیں۔بھارتی حکومت ان ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیر کے مظلوم عوام کے جذبہ حریت کوکمزوراور کالے قوانین اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے اختلاف رائے کو دبانا چاہتی ہے۔ ان پرتشدد کارروائیوں میں خاص طور پر کشمیری نوجوانوں اور آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور بیرون ملک مقیم حریت رہنماؤں کے اہلخانہ کو نشانہ بنایا جارہاہے، جو کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے لیے اپنی آواز بلند کررہے ہیں۔ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک1500 سے زائد کشمیریوں کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے، انہوں نے مزید بتایاکہ پولیس نے وادی کشمیر کے تمام حصوں میں بیک وقت کارروائیاں شروع کی ہیں اور ان کارروائیوں کا بنیادی اہداف آزادی پسند کارکن، ان کے ہمدرد، اوور گرانڈ ورکرز اور وہ لوگ ہیں جن کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے مقدمات درج ہیں، تاہم وہ فی الحال ضمانت پر ہیں۔ گھروں پر چھاپوں کے دوران مکان اور بینک کے دستاویزات، ڈیجیٹل آلات، کتابیں اور دیگر اشیا ضبط کی جاتی ہیں۔ بارہمولہ میں 16حریت کارکنوں کے گھروں کی تلاشی لیکر10افراد کوکالے قوانین کے تحت گرفتارکیا گیا ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجی کارروائیوں میں 35سال میں 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 10ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی۔ جنوری 2001ء سے لیکر اب تک بھارتی فوج نے کم از کم 6 سو خواتین کو شہید کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 8ہزار خواتین لاپتہ ہو ئیں، جن میں 18 سال سے کم عمر کی ایک ہزار لڑکیاں اور 18 سال سے زیادہ عمر کی 7ہزار خواتین شامل ہیں۔ 1989ء سے اب تک 22ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 10 ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی’ جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والے خواتین بھی شامل ہیں۔ بھارتی فوج کی چوتھی اجپوتانہ رائفلز کے جوانوں نے 23 فروری 1991ء کو جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ایک گاں کنن پوش پورہ میں سرچ ا?پریشن شروع کیا جس کے بعد 23 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔اسکے علاوہ ضلع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی 32کارروائیاں کی گئی ہیں، جنوبی کشمیر کے اضلاع اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام میں پولیس نے متعدد مقامات پربڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں حال ہی میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں اور ان کے ساتھیوں کی رہائش گاہوں کی تلاشی لی گئی۔ضلع بڈگام میں بھی پولیس نے آزادی پسند کارکنوں کے خلاف کریک ڈائون کیا، گاندربل میں بھارتی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 39 کشمیریوں کو گرفتار کر کے گاندربل کی دگنی بل جیل میں قیدد کر دیا۔
ضلع کولگام میں بھارتی فورسز نے گھروں پر چھاپوں کے دوران حریت خاندانوں کے 8 افراد کو گرفتار کرکے انہیں سنٹرل جیل اسلام آباد منتقل کر دیا۔بھارتی فورسز نے سرینگر، شوپیاں، پلوامہ اور کولگام اضلاع کے مختلف علاقوں میں تلاشی اور چھاپوں کی کارروائیوں کے دوران 8 افراد کو بھی گرفتار کیا۔بھارتی فورسز نے جنوبی کشمیر میں کشمیری حریت پسند محمد یوسف ڈار اور ان کی بیٹی کو گرفتار کر لیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے کائونٹر انٹیلی جنس کشمیر ونگ نے پلوامہ، شوپیاں، سری نگر، بارہمولہ اور کولگام اضلاع میں چھاپے مارے اور کئی رہائشی مکانات کی تلاشی لی۔ اس دوران کئی برقی آلات بھی ضبط کر لیے۔کولگام کے محمد پورہ علاقے میں محمد یوسف ڈار ولد غلام محمد ڈار کے رہائشی مکان پر اچانک چھاپہ مارا گیا۔ ایک موبائل فون ضبط کیا گیا کارروائی کے دوران محمد یوسف ڈار اور ان کی بیٹی کو حراست میں لے کرنامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس ترجمان کے مطابق بھارت دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے تلاشی کے دوران موبائل فونز، لیپ ٹاپ سمیت ڈیجیٹل آلات ضبط کیے گئے جنہیں مزید تفتیش کے لیے فرانزک تجزیہ کے لیے بھیجا جائے گا۔کچھ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نئی دہلی کے زیرکنٹرول ریاستی تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے ایک جھوٹے کیس میں سات کشمیریوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ چارج شیٹ پولیس اسٹیشن پارمپورہ میں درج ایک جھوٹے کیس کے سلسلے میں ایس آئی اے ایکٹ کے تحت سرینگر میں قائم خصوصی جج کی عدالت میں داخل کی گئی ہے۔جن افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے ان میں مشتاق احمد خان، انس اعجاز، زاہد احمد شیخ، تنظیر احمد نجار، بلال شبیر اعوان ،باسط اشرف ملک اورارسلان مشتاق بنگری شامل ہیں۔ ایس آئی اے کا دعوی ہے کہ یہ افرادعسکریت پسندی اورمنشیات فروشی میں ملوث ہیں۔تاہم بھارتی فورسز کشمیری نوجوانوں کو پھنسانے کے لئے اکثر اس طرح کے جھوٹے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: محاصرے اور تلاشی کی بھارتی فورسز نے سے زائد خواتین میں بھارتی افراد کو کشمیر کے کے خلاف اور ان کے لیے کی گئی

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار