پاکستانی مرد اداکاراؤں سے شادی نہیں کرتے، قدسیہ علی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ قدسیہ علی نے حالیہ انٹرویو میں خواتین کی خودمختاری اور شوبز انڈسٹری سے جڑی معاشرتی سوچ پر کھل کر بات کی۔
ایک نجی نیوز چینل کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے قدسیہ علی نے کہا کہ خودمختار خواتین کو آج بھی معاشرے میں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر اداکاراؤں کو ایک مخصوص نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
اُنہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 2025 میں بھی معاشرتی روایات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
اداکارہ نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں انہیں ذاتی زندگی میں بھی ایسے رویے کا سامنا کرنا پڑا۔
قدسیہ علی کے مطابق وہ کسی سے ملی تھیں اور دونوں میں دوستی قائم ہوئی، مگر اس شخص نے واضح کیا کہ کسی بھی سنجیدہ رشتے کے لیے انہیں اپنا پیشہ چھوڑنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ خواتین اداکاراؤں کو سراہتے ضرور ہیں، مگر انہیں کبھی اپنی زندگی کا حصہ بنانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
واضح رہے کہ اپنی باصلاحیت اور قدرتی اداکاری کے باعث ناظرین میں پہچان رکھنے والی قدسیہ علی نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈرامہ اولاد سے کیا تھا جس میں انہوں نے خصوصی ضروریات رکھنے والی بچی کا کردار انتہائی خوبی سے نبھایا تھا۔
اس کے بعد وہ کچھ ان کہی اور ایک جھوٹی کہانی جیسے معروف ڈراموں میں اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قدسیہ علی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک