قدسیہ علی: پاکستانی مرد اداکاراؤں سے شادی میں دلچسپی نہیں رکھتے
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اداکارہ قدسیہ علی نے ایک حالیہ انٹرویو میں شوبز انڈسٹری اور معاشرتی رویوں پر کھل کر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ خودمختار خواتین، خاص طور پر اداکاراؤں، آج بھی معاشرت میں تنقید کا سامنا کرتی ہیں اور اکثر انہیں ایک مخصوص نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ قدسیہ علی نے افسوس کا اظہار کیا کہ 2025 میں بھی معاشرتی روایات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔
اداکارہ نے اپنی ذاتی زندگی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے کسی شخص سے ملاقات کی اور دوستانہ تعلق قائم ہوا، مگر اس نے واضح کر دیا کہ سنجیدہ رشتے کے لیے قدسیہ کو اپنا پیشہ چھوڑنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ خواتین اداکاراؤں کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اپنی زندگی کا حصہ بنانے پر اکثر آمادہ نہیں ہوتے۔
قدسیہ علی نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈرامہ “اولاد” سے کیا، جس میں انہوں نے خصوصی ضروریات رکھنے والی بچی کا کردار انتہائی مہارت سے نبھایا۔ اس کے بعد وہ “کچھ ان کہی” اور “ایک جھوٹی کہانی” جیسے معروف ڈراموں میں بھی اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔