گوگل جلد اینڈرائیڈ پر مبنی ڈیسک ٹاپ OS متعارف کرانے والا ہے
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل کی جانب سے اینڈرائیڈ اور کروم او ایس کو یکجا کرکے ایک نیا اور جدید ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اینڈرائیڈ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق، گوگل نے لنکڈن پر سنیئر پراڈکٹ منیجر اینڈرائیڈ، لیپ ٹاپ اینڈ ٹیبلیٹس کے لیے ملازمت کا اشتہار دیا تھا، جو بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
اشتہار میں بتایا گیا کہ یہ عہدہ اینڈرائیڈ پر مبنی نئے ایلومینیم نامی آپریٹنگ سسٹم پر کام کرنے کے لیے ہے۔ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ گوگل اینڈرائیڈ کو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس میں بھی استعمال کے قابل بنانے پر کام کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایلومینیم اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر مبنی ہوگا اور اسے مختلف ڈیوائسز جیسے لیپ ٹاپس، ٹیبلیٹس اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں استعمال کیا جائے گا۔ نئے سسٹم میں اینڈرائیڈ ایپس کی مکمل سپورٹ بھی ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ صارفین کے لیے دستیاب ہوگی، جس سے اینڈرائیڈ ٹیبلیٹس کا تجربہ بھی بہتر ہوگا۔
یہ نیا پلیٹ فارم بتدریج کروم او ایس کی جگہ لے گا اور ممکن ہے کہ گوگل اسے کروم او ایس کے نام سے جاری رکھے تاکہ کروم بک برانڈ برقرار رہے۔ ایلومینیم کی سپورٹ انٹری لیول سے لے کر پریمیئم ڈیوائسز تک فراہم کی جائے گی۔
متوقع ہے کہ ایلومینیم کی پہلی جھلک 2026 میں سامنے آئے گی، جبکہ مکمل طور پر متعارف کرانے میں ایک سے دو سال مزید لگ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔