WE News:
2026-06-03@00:02:06 GMT

مصالحے، جو ایک فنکار کو اس کے وطن سے جوڑتے ہیں۔

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

مصالحے، جو ایک فنکار کو اس کے وطن سے جوڑتے ہیں۔

’گزشتہ سال میں نے اپنے وطن غزہ کو چھوڑ دیا۔ جب میں مصالحوں کی خوشبو محسوس کرتا ہوں، مجھے اپنی زندگی کے وہ لمحات یاد آ جاتے ہیں جو میں نے فلسطین میں گزارے۔ یہ مصالحے میری نئے زندگی اور میرے وطن کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں‘۔

یہ کہنا ہے غزہ میں پیدا ہونے والے فنکار محمد الحواجری کا جو این سی اے ٹرائینالے کے بارے میں اپنے تجربات بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مصالحوں کے ساتھ ان کے تعلق کی ایک خاص کہانی ہے، اسی لیے وہ اپنے آرٹ  ورک  میں مصالحے استعمال کرتے ہیں۔

ان کا پروجیکٹ آئی سمیل مائی ہوم لینڈ کہلاتا ہے۔ کبھی کبھی لوگ ان کے فن کو منفرد سمجھتے ہیں کیونکہ وہ مختلف تکنیکوں سے مختلف مواد استعمال کرتے ہیں۔ الحواجری کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد فن کو پیچیدہ بنانا نہیں بلکہ اسے زیادہ سادہ اور سمجھنے میں آسان بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے لاہور میں این سی اے ٹرائینالے میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ جب میں یہاں پہنچا تو میں نے محسوس کیا کہ سب کچھ بہت منظم طریقے سے منعقد کیا گیا ہے۔ این سی اے ٹیم کی کارکردگی اور ان کا کام کرنے کا انداز واقعی متاثر کن ہے۔ ٹرائینالے ایک اہم موقع ہے جہاں فنکار ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تجربات بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ یہاں آ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں گھر آیا ہوں، کیونکہ میں ایک عرب ملک سے ہوں اور یہاں کے لوگ وہاں کے لوگوں کی طرح گرم جوش اور مہمان نواز ہیں۔

یہ کہانی ان 200 فنکاروں میں سے ایک کی ہے جو 20 ممالک سے این سی اے لاہور پہنچے ہیں تاکہ این سی اے ٹرائینالے میں حصہ لیں۔

این سی اے ٹرائینالے  کسبِ کمال کن

نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں این سی اے ٹرائینالے کسبِ کمال کن جاری ہے، جس میں بین الاقوامی فن اور ثقافت کی متنوع سرگرمیاں پیش کی جا رہی ہیں۔

ایک ماہ پر محیط اس پروگرام میں دنیا بھر سے معروف فنکار، ڈیزائنر، موسیقار، محقق اور ثقافتی ماہرین شریک ہیں۔

یہ ٹرائینالے این سی اے کی 150 سالہ تاریخ کا جشن بھی ہے، جس کی بنیاد 1875 میں میو اسکول آف آرٹ کے طور پر رکھی گئی تھی۔

ٹرائینالے  میں یورپ، چین، ایران، برطانیہ، فلسطین ، پاکستان اور دیگر ممالک کے 200 سے زائد فنکار حصہ لے رہے ہیں۔ این سی اے نے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اپنے آرکائیو میں محفوظ نایاب فن پارے بھی نمائش کے لئے پیش کئے ہیں۔

ٹرائینالے میں بین الاقوامی فنکار ریذیڈنسیز، نمائشیں، فلم اسکریننگز، پرفارمنسز، بصری فنون کی نمائش، فیکلٹی کی نمائش “Scope Eleven”، فوٹو گرافی شو “Pekar-e-Tasveer”، فرنیچر اور ٹیکسٹائل ڈیزائن کی نمائش، بین الاقوامی پوسٹر ڈیزائن، مشترکہ سیرامکس، تخلیقی ورکشاپس، موسیقی، تھیٹر اور ڈانس فیسٹیولز شامل ہیں۔

ساتھ ہی سرنگی ریسائٹل، سیتار پرفارمنس، شاعری کے پروگرام، آرٹ اور آرکیٹیکچر کے تھیوریز پر پہلا بین الاقوامی کانفرنس، سیمینار اور سمپوزیم بھی منعقد ہو رہے ہیں۔

ویلش پرنٹ میکر سارہ ہاپکنز نے اپنے تجربات اور ورکشاپ کے عمل کے بارے میں بتایا کہ میں بنیادی طور پر اسکرین پرنٹنگ استعمال کرتی ہوں، لیکن ٹرائینالے کے لیے کچھ نیا کر رہی ہوں۔

میں اسٹینسل اور کٹ پیپر اسٹینسل کا خیال لے کر انہیں ایک نئے فارمیٹ میں منتقل کر رہی ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کام ایک ویلش کمبل سے متاثر ہے جو ان کے بچپن میں ان کے بستر پر تھا۔ یہ ایک روایتی ویلش کمبل ہے۔ جب میں نے اس کا اسکرین پرنٹ بنایا، تو یہ آتیف کے ساتھ تعاون کا حصہ تھا۔

انہوں نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں ایک کمبل ہے جس کا ڈیزائن کافی مشابہت رکھتا ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ کچھ نمونے ہماری ثقافتوں کو جوڑ سکتے ہیں۔

ٹیکسالی گیٹ سے ندیم عباس اپنی استاد اللہ بخش سے سیکھی گئی نایاب اور پیچیدہ مہارت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے ہارمونیم ٹرائینالے میں پیش کیے جا رہے ہیں، جو ٹیکسالی گیٹ کی روایت کو عالمی سطح پر متعارف کراتے ہیں۔

فنکار محمد عمران کندن جیولری کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کبھی یہ مغل شہزادوں کے لیے بنائی جاتی تھی، آج بھی چند ماہر کاریگر ہاتھ سے کندن جیولری تیار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر زیور کو احتیاط سے بنایا، سیٹ کیا اور پالش کیا جاتا ہے، یہ عمل صبر اور مہارت کا متقاضی ہے۔ کبھی سونا استعمال ہوتا تھا، اب کانسی یا پیتل استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ روایت جاری رہے۔ ہر زیور تاریخ، ثقافت اور لگن کی کہانی سناتا ہے۔

وائس چانسلر  این سی اے پروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری کا کہنا ہے کہ این سی اے ٹرائینالے کی میزبانی ہمارے ادارے کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ یہ موقع دنیا بھر کے فنکاروں، ڈیزائنرز اور ثقافتی ماہرین کو جمع کرتا ہے، جس سے مکالمہ، تعاون اور جدت کو فروغ ملتا ہے۔ یہ صرف ایک نمائش نہیں، بلکہ تخلیق، تبادلے اور انسانی تجربے کا جشن ہے۔

چاہے یہ مصالحوں کی خوشبو ہو جو ایک فنکار کو غزہ واپس لے جاتی ہے، یا وہ بنے ہوئے نمونے جو ویلز اور پاکستان کو جوڑتے ہیں، این سی اے ٹرائینالے ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ جہاں یادیں، ہجرت اور مادی ثقافت آپس میں ملتی ہیں۔

لاہور میں، خطے کے قدیم ترین فنون لطیفہ کے اداروں میں سے ایک کے کوریڈورز میں، ذاتی کہانیاں اور عالمی تجربات ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ یہاں فنکار نئے انداز میں اپنا وطن دوبارہ دریافت کرتے ہیں اور اپنی کہانیاں اجنبی جگہوں میں بھی پہچان لیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹرائینالے میں بین الاقوامی انہوں نے بتایا کہ کرتے ہیں کہنا ہے کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع