قوم کے مقبول ترین لیڈر کو مکمل تنہائی میں رکھنا بدترین سیاسی انتقام ہے، حلیم عادل شیخ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے کہا کہ 26 نومبر کے شہدا کی عظیم قربانیاں تحریک انصاف کی جدوجہد کی بنیاد ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے پرامن کارکنوں پر مسلسل ریاستی تشدد تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، جسے کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ چیئرمین عمران خان کی 843 دن سے جاری غیر قانونی اور غیر آئینی قید انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے مقبول ترین اور عظیم لیڈر کو مکمل تنہائی میں رکھنا بدترین سیاسی انتقام ہے، جبکہ ان سے ملاقاتوں کو روکنا آئین، قانون اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ بشری بی بی سمیت ناحق قید کیے گئے سیاسی رہنماؤں کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے مقدمات کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں بھیجنا عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور سیاسی انجینئرنگ کو آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی ہے، حکومت عدالتی احکامات پامال کرکے نہ صرف اداروں کی ساکھ مجروح کر رہی ہے بلکہ انصاف کے پورے نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ حکومت کی مالی بدعنوانی اور بدترین انتظامی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے جس میں 5300 ارب روپے کی کرپشن واضح طور پر سامنے آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو تباہی کے کنارے پر پہنچانے اور 14 لاکھ نوجوانوں کو بے روزگار کرنے کی ذمہ دار وہ فارم 47 کی جعلی حکومت ہے جس نے کسی شعبے میں بہتری کا کوئی لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 12.
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 26 نومبر کے شہدا کی عظیم قربانیاں تحریک انصاف کی جدوجہد کی بنیاد ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے پرامن کارکنوں پر مسلسل ریاستی تشدد تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، جسے کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے چینی کے مصنوعی بحران کو حکومتی کرپشن اور مالی بدانتظامی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمت 215 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جبکہ عوام دونوں ہاتھوں سے لوٹے جا رہے ہیں۔ مہنگائی نے عام عوام سے دو وقت کی روٹی تک چھین لی ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر نہ معیشت بحال ہو سکتی ہے اور نہ ملک میں امن آسکتا ہے، واحد راستہ صاف، شفاف اور فوری انتخابات ہیں تاکہ عوامی نمائندگی کے ذریعے ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حلیم عادل شیخ نے نے کہا کہ پی ٹی آئی انہوں نے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔