آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اس کی متعدد وجوہات رفتہ رفتہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

وہ شہر جو کبھی ٹھنڈی ہواؤں، سرسبز پہاڑوں اور صاف فضاؤں کے لیے مشہور تھا، اب خشک سالی جنگلات میں لگنے والی آگ اور گاڑیوں کے بے تحاشا دھوئیں کے باعث شدید آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔

شہری اس بوجھ کو براہِ راست اپنی صحت پر محسوس کر رہے ہیں اور سانس کی بیماریوں، الرجی، آنکھوں کی جلن اور سینے کے انفیکشن کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

مختلف اسپتالوں کے ڈاکٹر بتا رہے ہیں کہ پچھلے چند ماہ میں سانس کے امراض کے مریضوں کی تعداد غیر معمولی رفتار سے بڑھی ہے۔

خشک سالی اس وقت آزاد کشمیر میں سب سے بڑا ماحول دشمن عنصر بن چکی ہے۔ بارشوں میں کمی نے نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ کیا ہے بلکہ فضا میں معلق آلودہ ذرات کو صاف ہونے سے بھی روک دیا ہے۔

عام طور پر بارشیں گرد اور دھوئیں کو نیچے بٹھا کر فضا کو صاف کر دیتی ہیں، مگر جب موسم خشک ہو تو PM2.

5 اور PM10 جیسے خطرناک ذرات کئی دنوں تک فضا میں موجود رہتے ہیں۔

یہی ذرات شہریوں کے پھیپھڑوں میں جا کر صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس سال خشک سالی کے دورانیے نے آلودگی کے مسئلے کو پہلے سے کہیں زیادہ شدید بنا دیا ہے۔

جنگلات میں لگنے والی آگ بھی فضا کو بہت تیزی سے آلودہ کر رہی ہے۔ آزاد کشمیر کا بڑا حصہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے، لیکن گزشتہ دو برسوں میں بارشوں کی کمی اور غیر معمولی گرمی نے ان جنگلات کو شدید خشک کر دیا ہے۔

اس ماحول میں آگ لگنے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں، جو سینکڑوں درختوں کو لپیٹ میں لے کر فضا میں دھواں اور راکھ چھوڑتے ہیں۔ یہ دھواں چند گھنٹوں میں شہر کی فضا کو آلودہ کر دیتا ہے، جس کے بعد شہریوں میں سانس اور آنکھوں کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ جنگلات کی آگ صرف درختوں کا نقصان نہیں کرتی بلکہ اس کا دھواں براہِ راست انسانی صحت پر سب سے زیادہ اثر ڈالتا ہے۔

اسی حوالے سے وزیرِ جنگلات سردار جاوید ایوب نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پت جھڑ کے دوران جنگلات میں خشک مواد کی بڑی مقدار جمع ہو جاتی ہے جسے مکمل طور پر صاف کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ محکمہ فائر لائنز بنا کر آگ کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے اور عارضی فائرمین بھی تعینات کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں بھی کسی گاؤں یا کمپارٹمنٹ میں آگ لگے قانون واضح ہے غفلت یا لاپرواہی کے مرتکب افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

سردار جاوید نے مزید کہا کہ محکمہ کوشش کر رہا ہے کہ جہاں رسائی ممکن ہو وہاں فائر ٹینڈرز خریدے جائیں، تاکہ بروقت آگ پر قابو پایا جا سکے۔ہم مقامی لوگوں کو بھی شامل کر رہے ہیں، تاکہ آگ بجھانے کے اقدامات مؤثر ہو سکیں۔

شہر کی آلودگی کا سب سے بڑا سبب ٹریفک کا دھواں ہے۔ گاڑیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور کئی پرانی غیر معیاری اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں روزانہ فضا کو آلودہ کر رہی ہیں۔

ٹریفک پولیس اور متعلقہ ادارے اس مسئلے سے نمٹنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہے، کیونکہ اب بھی شہر میں بڑی تعداد میں ایسی گاڑیاں چل رہی ہیں، جو ماحولیاتی معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ نتیجہ یہ کہ شہر کی فضا مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔

اس ساری صورت حال میں آزاد کشمیر انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) خود بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ای پی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی کے مطابق ادارے کے پاس نہ جدید مانیٹرنگ مشینری ہے نہ تربیت یافتہ عملہ اور نہ ہی مطلوبہ وسائل۔ ہم نہ فضائی آلودگی کو درست انداز میں مانیٹر کر سکتے ہیں نہ بروقت کارروائی ممکن ہوتی ہے۔ جدید سسٹمز کے بغیر مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنا بہت مشکل ہے۔

شہریوں میں بھی اس آلودگی سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ مظفرآباد کے رہائشی وقار احمد کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے ہم نے اپنی روزمرہ زندگی میں واضح تبدیلی محسوس کی ہے۔ بچے مسلسل کھانسی، آنکھوں کی جلن اور سانس کی تکلیف کا شکار ہیں۔ پہلے شام کے وقت ٹھنڈی ہوا چلتی تھی اب دھوئیں اور گرد کی بو آتی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو یہاں رہنا مشکل ہوتا جائے گا۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مظفرآباد بھی ان شہروں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جہاں صاف ہوا ایک نایاب نعمت بن جائے گی۔

ماحول دوست حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ای پی اے کو فوری طور پر جدید آلات فراہم کیے جائیں جنگلات کی آگ کی روک تھام کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور شہریوں میں زیادہ مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ثاقب علی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کر رہے ہیں ہیں کہ فضا کو

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں