ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کو احساس ہے کہ اس کا کیا اثر پڑے گا؟ شاہد خاقان
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
سابق وزیراعظم اور چیئرمین عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کو احساس ہے کہ اس کا ملک پر کیا اثر پڑے گا؟ ان ترامیم میں ملک اور عوام کا فائدہ بتایا جائے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو پاکستان اور آئین کی بات کرے گا ہم اس سے بات کریں گے، حکومت نہ ہی اصلاحات کرسکی اور نہ ہی گورننس کو بہتر بنا سکی، حکومت کیوں کرپشن روکنے سے قاصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ارب روپے یومیہ عوام کی جیب سے چینی مالکان کی جیب میں جارہا ہے۔ اشرافیہ پالیسی کو کنٹرول کرتی ہے اور اس سے کرپشن کی جاتی ہے، معیشت پر نظر رکھنے والے ادارے کہتے ہیں کرپشن کنٹرول نہیں کریں گے تو ملک آگے نہیں جائے گا۔
سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کے یوم تاسیس سے خطاب کرتے ہوئے کہا نہ سیاست میں عزت، نہ عوام کی خدمت ہے ملک کے مسائل برقرار ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ماضی میں الیکشن چوری ہوتے تھے تو آج نہیں ہونا چاہئیں، احتساب سب کا ہونا چاہیے۔
ایک سوال پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف سیاسی لیڈر ہیں، ان کی مرضی جو بیان دیں، نواز شریف حکومت میں ہیں، احتساب ان کے ہاتھ میں ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں سوچ اور رویہ بدلنے کی ضرورت ہے، ہم صرف اپنی خوشی اور مفاد کی بات کرتے ہیں اور یہ بات کرتے ہیں کہ مزید کیسے طاقت حاصل کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔