ہندو جھنڈا بابری مسجد کے ملبے پر، تشدد، سیاست اور تاریخ کا مسخ شدہ بیانیہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ تعمیر ہونے والے رام مندر پر نام نہاد مقدس کیسر ی جھنڈا لہرا کر ایک بار پھر اپنے ہندوتوا ایجنڈے کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔
ایک ایسے ملک میں جو کبھی تعددیت اور سیکولر اقدار کے لیے پہچانا جاتا تھا، اس تقریب کو مودی حکومت نے ’قومی یکجہتی‘ کا لمحہ قرار دینے کی کوشش کی، لیکن حقیقت میں یہ منظر بھارتی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے لیے گہرے زخم تازہ کرنے کا باعث بنا۔
یہ بھی پڑھیں:
تقریب کے دوران ٹی وی اینکرز نے اسے ’تہذیب کی نئی پیدائش‘ قرار دیا، جبکہ وزرا نے اسے بھرپور سیاسی تماشہ بنا دیا۔ جشن و جلوس میں وہ تلخ حقیقت تقریباً فراموش کر دی گئی کہ بابری مسجد ایک مشتعل ہجوم نے ریاستی اداروں کی ناک کے نیچے شہید کی تھی، اور پھر اس طویل تنازع میں بھارتی ریاست بالخصوص عدلیہ نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
1992 میں مسجد کی شہادت کے بعد بھی معاملات یوں ہی نہیں رکے، بھارتی سپریم کورٹ نے 2019 میں مسجد کی زمین ہندو فریقین کے حوالے کر دی، حالانکہ عدالت نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ مسجد کا انہدام غیر قانونی تھا۔
مزید پڑھیں:
اس فیصلے پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی اور خود بھارت کے کئی حلقوں نے اسے اکثریتی سیاست کی جیت قرار دیا۔ بہت سے بھارتی مسلمانوں کے نزدیک یہ فیصلہ قبول کرنا مجبوری تھی، رضامندی نہیں۔
تاریخی طور پر 16ویں صدی میں مغلیہ دور میں جنرل میر باقر نے ایودھیا میں بابری مسجد تعمیر کی، جو صدیوں تک مرکزی عبادت گاہ رہی۔ بعد ازاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسی جگہ رام کی پیدائش ہوئی تھی، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو مسجد کی تعمیر کے کئی سو سال بعد سامنے آیا اور جسے ماہرین اسلاموفوبیا سے جڑی سیاسی مہم قرار دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
ماہرین کے مطابق رام مندر تحریک 1980 کی دہائی سے ہندو قوم پرست سیاست کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے، جس نے ووٹروں کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ مودی کی 2024 کی رام مندر کی تقریبِ افتتاح اور اب ہندو پرچم لہرانے کی کارروائی کو انتخابی مفاد سے جوڑا جا رہا ہے۔
ان تمام تناظرات میں مودی اور جوگی ادتیہ ناتھ کا متنازع مقام پر ہندو جھنڈا لہرانا بھارتی مسلمانوں کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔
مزید پڑھیں:
25 کروڑ مسلمانوں کے لیے یہ کارروائی ان کے مذہبی ورثے کی پامالی، عدم تحفظ کے احساس اور حاشیے پر دھکیلنے کی علامت بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ محض ایک علامتی تقریب نہیں بلکہ مذہبی انتہا پسندی اور ہجوم کے تشدد کے نتائج کی سرکاری توثیق ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے بھی مندر کی افتتاحی تقریبات کے بعد مختلف شہروں میں فرقہ وارانہ جھڑپوں، توڑ پھوڑ اور حملوں کی رپورٹ دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فتح مندی تشدد کو ہوا دے سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:
مبصرین کے مطابق بھارت میں یہ تاثر تیزی سے تقویت پارہا ہے کہ ایک طبقے کی کامیابی دوسرے کے حقوق اور تاریخ کی قیمت پر حاصل کی جا رہی ہے۔
ناقدین کے نزدیک وزیر اعظم مودی اس عمل کو تاریخ کا سنگ میل قرار دیتے ہیں، مگر یہ ’تاریخ‘ وہ ہے جو انتخابی سیاست کی ضرورتوں کے تحت ازسرِنو لکھی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسی یادداشتوں پر تعمیر ہونے والا ملک واقعی سب کے لیے شمولیتی ہوسکتا ہے؟ اور جب قومی شناخت کو صرف اکثریت کے غرور سے جوڑا جائے تو اقلیتوں کے لیے اس میں کیا جگہ باقی رہ جاتی ہے؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انہدام بابری مسجد بھارت جھنڈا کیسری مسلمان ہندو ہندوتوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت جھنڈا کیسری ہندوتوا مسلمانوں کے مزید پڑھیں مسجد کی کے لیے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔