چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان، متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ن لیگ اور پی پی میں آدھی آدھی مدت کے لیے حکومت کا فارمولا طے ہے، یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد سالم البواب ال زعابی سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ مذہبی و ثقافتی اقدار اور سیاسی، اقتصادی، سماجی و پارلیمانی تعاون کی دہائیوں پر مبنی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔

دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

ملاقات میں دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے امور اور تاریخی برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے امارات کی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

بین الپارلیمانی تعاون کی تعریف

سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں ہونے والی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں امارات کی خصوصی شرکت اور فعال کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ امارات کی بھرپور شمولیت نے کانفرنس کے مباحثے کو مؤثر بنایا اور علاقائی ہم آہنگی کے پیغام کو تقویت دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، امارات کے صدر اور حکمرانِ ابوظہبی شیخ محمد بن زاید النہیان کے آئندہ دورے کا منتظر ہے۔

دوطرفہ تجارت 10.

1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

یوسف رضا گیلانی کے مطابق سینیٹ 2025 میں پاکستان اور امارات کی تجارت 10.1 بلین ڈالر تک پہنچ گئی جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سیاحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے اور اماراتی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔

مزید پڑھیے: قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی سے ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللّٰہ کی الوداعی ملاقات

سفیر سالم الزعابی نے پاکستان کو ایک اہم معاشی شراکت دار قرار دیتے ہوئے تجارت و سرمایہ کاری میں مزید اضافے کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے گیلانی کی بطور وزیر اعظم خدمات کو بھی سراہا۔

پارلیمانی سفارت کاری کے فروغ پر زور

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان یو اے ای فرینڈشپ گروپ اور پارلیمانی کمیٹیوں کے درمیان مشترکہ تحقیقی پروگرام شروع کرنے کی تجویز دی۔

اس کے علاوہ انہوں نے قابل تجدید توانائی، علاقائی سلامتی اور تعلیمی تعاون پر دوطرفہ ورچوئل سیمینارز منعقد کرنے کی سفارش بھی کی۔

کشمیر مسئلہ علاقائی کشیدگی کی بنیادی وجہ

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہوگا جب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مسئلے کے حل میں تاخیر علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان کے امن کے عزم اور بیرونی مداخلت پر تشویش

مزید پڑھیں: قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی سے سینیٹرز اور سیاسی شخصیات کی ملاقات

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ہر قسم کی جارحیت اور منفی پراپیگنڈے کا بھرپور جواب دیتا رہے گا۔

انہوں نے بلوچستان میں دہشت گرد سرگرمیوں اور داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے سندھ طاس معاہدے سمیت بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

افغان مہاجرین: عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کی اپیل

انہوں نے روس افغانستان تنازعے کے دوران پاکستان کی انسانی بنیادوں پر خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 3.5 ملین افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب عالمی برادری ان کی باعزت اور رضاکارانہ واپسی کے لیے کردار ادا کرے۔

امارات میں پاکستانی کمیونٹی اہم سفیر ہے

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے ویزا میں نرمی اور عوامی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

دفاعی تعاون پر اظہار اطمینان

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، تربیتی پروگرامز اور مشترکہ مشقوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: یوسف رضا گیلانی تمام مقدمات سے بری، کیا سیاسی مقدمات کی روک تھام کا وقت آ گیا؟

اماراتی سفیر نے ہر شعبے میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ملاقات میں ملک وسیم مظہر راؤ، مشیرِ چیئرمین سینیٹ مصباح کھر اور طارق بن وحید بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک امارات تعلقات پاک امارات دفاعی تعاون چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک امارات تعلقات پاک امارات دفاعی تعاون چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ نے یوسف رضا گیلانی انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان کا اظہار کیا امارات کی امارات کے تعلقات کو کے درمیان کو مزید کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم