چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان کی ملاقات،باہمی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان کی ملاقات،باہمی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا سے منگل کے روز چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان کی سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات ہوئی۔ جسمیں سی ڈی اے کے ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا سمیت سی ڈی اے اور سپارکو کے سنئیر افسران نے شرکت کی۔
ملاقات میں جدید سٹلائٹ امیجز، ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال، اور تعلیمی اشتراک سمیت متعدد کلیدی شعبوں میں باہمی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ سپارکو کی جدید سیٹلائٹ امیجز کی بدولت مختلف سیکٹرز میں اراضی کے مسائل کو حل کرنے سمیت غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے بروقت خاتمے کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کے استعمال سے سیکٹورل اور نان سیکٹورل علاقوں میں شہری منصوبہ بندی زیادہ بہتر انداز میں ممکن ہوگی۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سپارکو کے اس تعاون سے اسلام آباد کی ترقی اور شہری منصوبہ بندی کے نئے دروازے کھلیں گے۔ ملاقات میں سپارکو نے سی ڈی اے کیلئے ایک جدید لیب قائم کرنے کے حوالے سے اپنے بھرپور تکنیکی معاونت کا یقین دلایا۔
ملاقات میں سی ڈی اے سکول اور سپارکو کے مابین تعلیمی اشتراک بڑھانے کے حوالے سے ایم او یو کرنے پر اتفاق کیا گیا۔چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے سی ڈی اے کیساتھ بھرپور تعاون کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل پر سی ڈی اے کی کارکردگی کو سراہا۔ملاقات میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے سپارکو کی اعلی تیکنیکی مہارتوں و صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف آئی اے کا طلبی کے جعلی یا مشتبہ نوٹسز کی روک تھام کے لیے بڑا فیصلہ،تمام مینوئل نوٹسز کا اجرا بند ایف آئی اے کا طلبی کے جعلی یا مشتبہ نوٹسز کی روک تھام کے لیے بڑا فیصلہ،تمام مینوئل نوٹسز کا اجرا بند الیکشن ٹربیونل نے جے یو آئی ف کے ایم این اے سید سمیع اللہ کی کامیابی کالعدم قرار دیدی سیاسی پیشرفت کے باوجود مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال بدستور سنگین ہے، پاکستان ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ، شواہد کے مطابق دہشت گرد افغان تھے، آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا ائیر ہیڈ کوارٹرز کا الوداعی دورہ، سربراہ پاک فضائیہ کی قومی دفاع کیلئے جنرل ساحر شمشاد مرزا... انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ، الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کیخلاف فیصلہ محفوظ کر لیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان کے حوالے سے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔