وزیراعظم سے وزیر منصوبہ بندی کی ملاقات، وزارت اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے ملاقات میں وزارت کے مختلف امور اور ملک کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اور دیگر اراکین اسمبلی نے ملاقاتیں کیں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملاقات میں وزارت منصوبہ بندی سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی، ملک کی مجموعی و سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے بیرون ملک پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے ملاقات کی، وفاقی وزیر نے اپنی وزارت سے متعلق امور پر بریفنگ دی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے وزارت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و سہولت کے لیے مزید مؤثر اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی، ملاقات میں دیگر اہم امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 189 راجن پور سے رکن قومی اسمبلی شمشیر علی مزاری نے بھی ملاقات کی اور اپنے حلقے کے مسائل اور ترقیاتی ضروریات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزرا اور اراکین اسمبلی کی ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف سے تبادلہ خیال وفاقی وزیر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔