وزیراعظم محمد شہباز شریف کا 25 نومبر 2025، خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
آج خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان دنیا بھر کے ساتھ مل کر اس اہم مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔ اس سال یہ دن”خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد” کے عنوان سے منایا جا رہا ہے—ایک ایسا موضوع جو اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ جدید دور میں خواتین کو صرف جسمانی نہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں نہ صرف اس چیلنج کو سمجھنے کی ضرورت ہے بلکہ متحد ہو کر اس کے خاتمے کے لیے اپنے عزم کی تجدید بھی کرنی ہے۔
خواتین پر تشدد اور ہراسانی کے مکمل انسداد کے لیےکثیر الجہتی اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اس حکمتِ عملی میں روک تھام کے اقدامات، متاثرہ خواتین سے ہمدردی اور معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی بے حد ضروری ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی ترقی، امن اور سماجی ہم آہنگی کے راستے میں بھی بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔
آئینِ پاکستان خواتین کوعزت، تحفظ اور برابر حقوق کی ضمانت دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین اب بھی امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ حکومت پاکستان بین الاقوامی معاہدوں کی روشنی میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی، پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم کاخواتین کو بااختیار بنانے کا خصوصی پیکج بھی انہی اقدامات کا حصہ ہے۔
تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے حکومت نے مختلف ادارے اور سہولیات فراہم کی ہیں، جن میںخواتین کا تحفظ سینٹرز، خواتین پولیس اسٹیشن، ہیلپ لائنز، اور مالی و قانونی معاونت شامل ہیں۔ اسی طرحقومی انسانی حقوق کمیشن، قومی کمیشن برائے حقوقِ نسواں اور دیگر آزادانہ ادارے بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ محض قانون یا حکومتی فیصلے اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکتے، جب تک معاشرہ مجموعی طور پر خواتین کے تحفظ اور برابری کو ترجیح نہ دے۔ ہماری دینی اور ثقافتی اقدار بھی خواتین کے احترام، عزت اور برابری کی تعلیم دیتی ہیں۔
آج، میں پاکستان کے ہر شہری، نوجوانوں، اساتذہ، سماجی اور مذہبی رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں۔ آئیے اپنے عزم کو دوہرائیں کہ پاکستان کی ہر خاتون خوف، تشدد، استحصال اور امتیازی سلوک سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لا سکے۔
حکومتی ادارے، معاشرہ، سول سوسائٹی اور عالمی تعاون—سب مل کر ہی پاکستان کو خواتین کے لیےمحفوظ، انصاف پسند اور برابر مواقع کا حامل ملک بنا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تشدد کے خاتمے کے خواتین پر تشدد خواتین کے کے لیے
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں