محکمہ داخلہ نے کالعدم تحریک لبیک کے 577 کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ٹی ایل پی کے ان کارکنوں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کر دیئے گئے ہیں۔ ان 577 کارکنوں کی جائیداد ضبط اور بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیئے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ نے یہ کارروائی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی تجویز پر کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیم کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ 577 کارکنوں اور رہنماوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیئے گئے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے کالعدم تحریک لبیک کے 577 کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دیئے ہیں۔ ٹی ایل پی کے ان کارکنوں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کر دیئے گئے ہیں۔ ان 577 کارکنوں کی جائیداد ضبط اور بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیئے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ نے یہ کارروائی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی تجویز پر کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر دیئے گئے ہیں محکمہ داخلہ کارکنوں کے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز