داتا دربار ہائیڈولک کینوپیز منصوبے کے لیے ٹیکس چھوٹ پر پنجاب کابینہ کا اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
راؤ دلشاد: پنجاب کابینہ نے داتا دربار ہائیڈولک کینوپیز منصوبے کے لیے ٹیکس چھوٹ کے معاملے پر اہم فیصلہ کر لیا.
پنجاب کابینہ نے داتا دربار ہائیڈولک کینوپیز منصوبے کے لیے ٹیکس چھوٹ کی منظوری دینے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں، جس کے تحت منصوبے کو 95 کروڑ روپے تک کی مالی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
کابینہ نے منصوبے کے لیے وفاقی حکومت سے ٹیکس چھوٹ کی درخواست بھی منظور کی، جس کی سمری سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور نے پیش کی تھی۔ پنجاب حکومت نے ٹیکس چھوٹ کی درخواست وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے اور چھوٹ کی منظوری ملنے کی صورت میں منصوبے کی لاگت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
راکھ کا بادل پاکستان آ گیا، پروازوں کو خطرہ لاحق، سرکاری الرٹ آگیا
منصوبہ زائرین کو موسمی تحفظ فراہم کرنے اور دربار کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکس چھوٹ کی منظوری کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جس کے بعد منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔