Daily Sub News:
2026-07-24@03:10:59 GMT

پانچ سال کی آئینی مدت پوری، گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

پانچ سال کی آئینی مدت پوری، گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل

پانچ سال کی آئینی مدت پوری، گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز

گلگت (آئی پی ایس) گلگت بلتستان حکومت کی مدمت مکمل ہونے پر اسمبلی تحلیل ہوگئی۔

جسٹس ریٹائرڈ یار محمد نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مقرر کردیا گیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مشاورت کے بعد تقرری کی منظوری دی۔

جسٹس ریٹائرڈ یار محمد خان ضلع استور کے گاﺅں ناصرآباد سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کابینہ کی تشکیل کے بعد نگران حکومت عام انتخابات تک ذمہ داریاں نبھائے گی۔

قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی اور حکومت کی مدت 24 نومبر کو مکمل ہوگی۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات فروری 2026 میں ہونگے۔ اسمبلی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

راجہ شہباز خان نے کہا کہ 9 لاکھ 91 سے زائد ووٹرز کی لسٹ بن گئی ہے۔ فروری 2026 میں گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کیلئے آج سے تمام اسٹنٹ کمشنرز کو ووٹر لسٹیں روانہ کر دی ہیں۔ اسمبلی کے 25 انتخابی حلقوں میں ووٹر لسٹیں کل سے آویزاں ہونگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف پاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف وفاقی آئینی عدالت میں خالی اسامیوں پر کرنے کیلئے نوٹیفکیشن جاری سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا،افغانستان،بھارت، فتن الہندوستان اور پی ٹی ایم کا پردہ چاک وزیراعظم سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات، پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم گلگت بلتستان حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت ختم، نوٹیفکیشن جاری، کل نگران وزیر اعلیٰ کا اعلان متوقع ایران کی سپریم سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اہم اور غیر معمولی دورے پر پاکستان پہنچ گئے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان اسمبلی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری