پاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) وزیراعظم شہبازشریف نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام میں کہا پاکستان تمام دنیا کے ساتھ مل کر خواتین پر تشدد کے خاتمے کیلئے اپنی آواز بلند کر رہا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نےکہا اس سال یہ دن “خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد” ہونے کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے ۔ جو جدید دور میں خواتین کو مختلف سطحوں اور پلیٹ فارمز پر تشدد اور ہراساں کئے جانے کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔
شہبازشریف کا مزید کہنا تھا خواتین پر تشدد اور ہراسانی کے واقعات کے مکمل خاتمے کے لئے کثیرالجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔۔ آئین پاکستان خواتین کی عزت و تکریم کی ضمانت اور برابری کے حقوق فراہم کرتا ہے ۔ پھر بھی ہمارے معاشرے میں خواتین کو بہت سی صورتحال میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکج سمیت متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ میں پاکستان کے تمام شہریوں ، نوجوانوں ، تمام سماجی و مذہبی رہنماؤں اور اساتذہ سے گزارش کرتا ہوں کہ آئیے خواتین پر تشدد کے خلاف اور اس کے خاتمے کے لئے متحد ہو جائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی آئینی عدالت میں خالی اسامیوں پر کرنے کیلئے نوٹیفکیشن جاری وفاقی آئینی عدالت میں خالی اسامیوں پر کرنے کیلئے نوٹیفکیشن جاری سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا،افغانستان،بھارت، فتن الہندوستان اور پی ٹی ایم کا پردہ چاک وزیراعظم سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات، پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم گلگت بلتستان حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت ختم، نوٹیفکیشن جاری، کل نگران وزیر اعلیٰ کا اعلان متوقع ایران کی سپریم سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اہم اور غیر معمولی دورے پر پاکستان پہنچ گئے پی ٹی آئی نے عوام کو کل اڈیالہ جیل پہنچنے کی کال دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔