! ہینڈ بیگزا‘‘ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کسی تقریب میں شرکت کرنا ہو یا پھر سہیلیوں سے میل ملاقات ، خواتین کیلئے پہلا مشکل مرحلہ لباس کا انتخاب ہوتا ہے،اس کے بعد سولہ سنگھار،لیکن اتنی سج دھج کے بعد بھی ساری زیبائش و آرائش اُس وقت تک نامکمل ہے جب تک لباس کی مناسبت سے پرس،کلچ،ہینڈ یا شولڈر بیگ کا انتخاب نہیں ہو جاتا۔افیشن میں جیسے جیسے جدت آئی ہے اسی طرح خواتین کے ہینڈ بیگز کی بھی کافی اقسام سامنے آئی ہیں۔ اب بازاروں میں ہر طرح کے ہینڈ بیگز دستیاب ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب خواتین اپنے کپڑوں اور اسٹائل کے مطابق ہینڈ بیگز کا انتخاب کرتی ہیں۔ ہر موقع کی مناسبت سے لاتعداد پرس اور بیگ مارکیٹ میں بہترین قیمت پر دستیاب رہتے ہیں۔مثال کے طور پر خواتین چھوٹے پرس یا کلچ صرف خاص موقع پر استعمال کرنا پسند کرتی ہیں۔ جن میں ان کی چھوٹی چھوٹی اشیاء مثلاً رقم،لپ اسٹک اور موبائل فون آسانی سے سما سکے۔بالکل اسی طرح خریداری کرتے وقت خواتین الگ قسم کے بیگز ساتھ رکھتی ہیں اور اس میں زیادہ تر خواتین شولڈر بیگز لیتی ہیں تاکہ ان کے ہاتھ خالی رہیں اور وہ باآسانی استعمال کر سکیں۔ پرس کے انتخاب کے وقت کئی باتوں کو مدِنظر رکھنا چاہئے۔ پرس اس سائز کا لیں کہ اس میں آپ کی ضرورت کی بنیادی چیزیں مثلاً پن، موبائیل فون انڈیکس، ڈائری، رومال، بناو سنگھار کا ضروری سامان، چھوٹا آئینہ اور کنگھا وغیرہ با آسانی سما سکے۔ اگر آپ کو کپڑے وغیرہ رکھنے ہیں تو انہیں کبھی بھی پرس میں زبردستی گھسانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس سے نہ صرف پرس کی ساخت بگڑ جائے گی بلکہ آپ کی شخصیت کا تاثر بھی خراب کردے گی۔ لہٰذا کپڑوں کیلئے علیحدہ بیگ لیں بعض اوقات آپ کو سفر پر جانا ہو اور آپ اپنی روز مرہ کی اشیاء مثلاً ٹوتھ پیسٹ، برش وغیرہ بھی رکھنا چاہ رہی ہوں تو آپ کو چاہئے کہ ان اشیاء کیلئے علیحدہ تیار کئے گئے پاوچ میں یہ سامان رکھیں یا اپنے ہینڈ بیگ کی کسی سائیڈزپ میں رکھیں ۔ بعض خواتین و لڑکیاں ہینڈ بیگ کپڑوں کے رنگوں سے ملتا جلتا استعمال کرتی ہیں حالانکہ سب سے بہتر رنگ سیاہ یا کتھئ ہیں اور یہ دونوں رنگ ہر طرح کے کپڑوں کے ساتھ ہر محفل میں بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا انتخاب ہینڈ بیگز ہینڈ بیگ
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔