مجھ پر 27، 28 کیسز ہیں: چوہدری پرویز الہٰی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ ہر جگہ مجھ پر کیسز ہیں۔ 27، 28 کیسز ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹر 20 فیصد سےکم ہوں تو وہ الیکشن نہیں ہوتا، لوگوں نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے۔
چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دو سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ بار کونسلز کا الیکشن ہو رہا ہے وہاں بھی میری مصروفیت ہے۔میں ہر جگہ موجود ہوتا ہوں، ہر تیسرے دن پریس کانفرنس بھی کرتا ہوں۔
منی لانڈرنگ کیس: پرویز الہٰی کے وکیل سے مزید معاونت طلباسپیشل سینٹرل عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ مقدمے میں چوہدری پرویز الہٰی کی بریت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
جج نے پرویز الہٰی کے وکیل سے مزید معاونت طلب کرتے ہوئے کہا کہ کیس سے متعلق کچھ قانونی چیزوں پر معاونت درکار ہے۔
پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا کہ سینئر وکیل عامر سعید آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کریں گے۔
جس کے بعد عدالت نے کیس پر کارروائی 18 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چوہدری پرویز الہ ی نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔