عالمی فوجداری عدالت میں استغاثہ نے مشرقی افریقہ کے ملک سوڈان کی دو دہائیوں پُرانی خانہ جنگی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ایک ملیشیا رہنما کے لیے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

منگل کے روز عالمی فوجداری عدالت نے علی محمد علی عبدالرحمٰن، المعروف علی کوشائب، کے لیے سزاؤں سے متعلق سماعت کا آغاز کیا، ایک روز قبل پروسیکیوٹر جولیئن نکولز نے دارفور کے مغربی علاقے میں ہونے والی قتل و غارتگری میں اُن کے کردار کے پیشِ نظر زیادہ سے زیادہ سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان میں خانہ جنگی، سینکڑوں خواتین جنسی تشدد کا نشانہ

استغاثہ کے مطابق عبدالرحمٰن جن جرائم میں ملوث ہیں، ان میں کلہاڑی سے 2 افراد کو قتل کرنا بھی شامل ہے۔

Prosecutors are also pushing for the harshest punishment as the ICC weighs sentencing a convicted Darfur perpetrator.

https://t.co/KyfnRnHd59

— K24 TV (@K24Tv) November 18, 2025

نکولز نے ہیگ میں موجود ججوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے سامنے لفظی معنوں میں ایک کلہاڑی سے قتل کرنے والا موجود ہے۔ صرف عمر قید ہی بدلے اور مستقبل میں روک تھام کے تقاضے پورے کر سکتی ہے۔

دوسری جانب عبدالرحمٰن کے وکلا 7 سال قید کی سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ آئندہ سماعتوں میں دلائل پیش کریں گے۔

مزید پڑھیں:سوڈان میں خانہ جنگی، سینکڑوں خواتین جنسی تشدد کا نشانہ

گزشتہ ماہ عبدالرحمٰن کو 27 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جن میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور جنسی زیادتی شامل ہیں۔ وہ 2003 سے 2004 کے دوران حکومت کے حمایت یافتہ جنجوید ملیشیا کی قیادت کرتے ہوئے دارفور میں قتل، تباہی اور بربادی کی مہم کے ذمہ دار پائے گئے تھے۔

یہ پہلی مرتبہ تھا کہ عالمی فوجداری عدالت نے دارفور کے جرائم سے متعلق کسی ملزم کو سزا سنائی ہو۔ یہ علاقہ اس وقت بھی ایک شدید خانہ جنگی کے باعث ہولناک مظالم کا شکار ہے۔

غلط شناخت کا کیس ہے، عبدالرحمٰن کا موقف

عبدالرحمٰن مسلسل یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ وہ جنجوید ملیشیا کے اعلیٰ عہدے دار نہیں تھے، جنجوید عرب نسل سے تعلق رکھنے والی وہ نیم فوجی فورس تھی جسے سوڈانی حکومت نے دارفور میں سیاہ فام قبائل کے خلاف کارروائی کے لیے مسلح کیا تھا۔

اپریل 2022 میں مقدمے کے آغاز سے ہی ان کا مؤقف تھا کہ وہ ’علی کوشائب نہیں‘ اور عدالت نے غلط شخص کو پکڑ لیا ہے، تاہم عدالت نے ان کا موقف مسترد کر دیا۔

مزید پڑھیں:آر ایس ایف نے 300 خواتین کو ہلاک، متعدد کیساتھ جنسی زیادتی کی، سوڈانی وزیر کا دعویٰ

فروری 2020 میں وہ وسطی افریقی جمہوریہ فرار ہو گئے تھے، جب نئے سوڈانی حکام نے عالمی فوجداری عدالت سے تعاون کا اعلان کیا۔ انہوں نے بعد ازاں خود کو عدالت کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’مایوس‘ تھے اور ڈرتے تھے کہ حکام انہیں قتل کر دیں گے۔

دارفور کا پس منظر

دارفور میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب غیر عرب قبائل نے منظم امتیاز کے خلاف بغاوت کی، اس کے ردِعمل میں خرطوم حکومت نے جنجوید ملیشیا کا سہارا لیا، جسے بعد میں پاپولر ڈیفنس فورسز کے نام سے جانا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2000 کی دہائی میں دارفور کے تنازع میں 3 لاکھ افراد مارے گئے جبکہ 25 لاکھ کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔

عالمی فوجداری عدالت کے پروسیکیوٹر موجودہ تنازع سے متعلق مزید گرفتاریوں کے وارنٹ جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:سوڈان میں خانہ جنگی، سینکڑوں خواتین جنسی تشدد کا نشانہ

سرکاری فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) — جو جنجوید ہی کا تسلسل ہیں — کے درمیان جاری جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

افریقی یونین کے مطابق یہ ’’دنیا کا بدترین انسانی بحران‘‘ بن چکا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کم از کم 40 ہزار افراد ہلاک اور 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عالمی فوجداری عدالت عبدالرحم ن کا مطالبہ خانہ جنگی عدالت نے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں

گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم